تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 196
اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 16 اکتوبر 1942ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم اگر اس رنگ میں کام شروع کیا جائے تو ایک شور مچ سکتا ہے۔اگر دو ہزار آدمی بھی ایسے ہوں جن کے پاس ہر ہفتہ سلسلہ کا لٹریچر پہنچتا ہے تو بہت اچھے نتائج کی توقع کی جاسکتی ہے۔ان لوگوں کو چٹھیاں بھی جاتی رہیں اور ان سے پوچھا جائے کہ آپ ہمارا لٹریچر مطالعہ کرتے ہیں یا نہیں ؟ اگر کوئی کہے نہیں تو اس سے پوچھا جائے کیوں نہیں؟ یہ پوچھنے پر بعض لوگ لڑیں گے اور یہی ہماری غرض ہے کہ وہ لڑیں یا سوچیں۔جب کسی سے پوچھا جائے گا کہ کیوں نہیں پڑھتے؟ تو وہ کہے گا کہ یہ پوچھنے سے تمہارا کیا مطلب ہے؟ تو ہم کہیں گے کہ یہ پوچھنا ضروری ہے کیونکہ یہ خدا تعالیٰ کی آواز ہے، جو آپ تک پہنچائی جارہی ہے۔اس پر وہ یا تو کہے گا سنا لو اور یا پھر کہے گا کہ میں نہیں مانتا اور جس دن کوئی کہے گا کہ جاؤ میں نہیں مانتا۔اسی دن سے وہ خدا تعالیٰ کا مد مقابل بن جائے گا اور ہمارے رستہ سے اٹھا لیا جائے گا۔جن لوگوں تک یہ آواز ہم پہنچائیں گے، ان کے لئے دو ہی صورتیں ہوں گی یا تو ہماری جو رحمت کے فرشتے ہیں سنیں اور یا پھر ہماری طرف سے منہ موڑ کر خدا تعالیٰ کے عذاب کے فرشتوں کی تلوار کے آگے کھڑے ہو جائیں۔مگر اب تو یہ صورت ہے کہ نہ وہ ہمارے سامنے ہیں اور نہ ملائکہ عذاب کی تلوار کے سامنے۔بلکہ آرام سے اپنے گھروں میں بیٹھے ہیں۔نہ تو وہ اللہ تعالیٰ کی تلوار کے سامنے آتے ہیں کہ وہ انہیں فنا کر دے اور نہ اس کی محبت کی آواز کو سنتے ہیں کہ ہدایت پا جائیں۔اب تو وہ ایک ایسی چیز ہیں جو اپنے مقام پر کھڑی ہے اور وہاں سے بہتی نہیں۔لیکن نئی تعمیر کے لئے ضروری ہے کہ اسے وہاں سے ہلایا جائے یا تو وہ ہماری طرف آئے اور یا اپنی جگہ سے ہٹ جائے۔یہ کام تحریک جدید کے پروگرام کا ایک حصہ ہے۔تحریک جدید کی موجودہ شکل کے اب دو سال باقی رہ گئے ہیں اور اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ان دو سالوں میں اس کام کی بنیاد شروع کی جاسکتی ہے تا جس وقت تک تحریک جدید کے مبلغ کام کے لئے تیار ہوسکیں۔ہمیں پتہ لگ جائے کہ ہم نے دنیا سے کس طرح معاملہ کرنا ہے اور اس نے ہم سے کس طرح کرنا ہے؟ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ جماعت کے مخلصین کو توفیق دے کہ وہ اس آواز پر لبیک کہ سکیں اور پھر ان کو استقلال کے ساتھ کام کرنے کی توفیق بخشے اور ایسی طرز پر اپنی باتیں لوگوں تک پہنچانے کی توفیق دے کہ وہ ہدایت کا زیادہ موجب ہوں اور ٹھوکر کا موجب صرف انہی لوگوں کے لئے ہوں جن کے لئے ازل سے ٹھوکر مقدر ہے۔آمین یا رب العالمین“۔( مطبوعه الفضل 22 اکتوبر 1942ء) 196