تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 184
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 25 ستمبر 1942ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم پس جن لوگوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ہماری جماعت کو اپنی خاص رحمتوں کا مورد بنایا ہوا ہے یقینا ان کا حق ہے کہ ہم انہیں اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔ان کے لئے دعا کرنا، اپنی ذاتی دعاؤں پر مقدم سمجھیں اور متواتر الحاح اور عاجزی سے ان کی صحت اور سلامتی اور ان کے رشتہ داروں کی صحت اور سلامتی کے لئے دعائیں کریں۔اسی طرح اور بہت سے مبلغ ہیں، جن کی قربانیوں کا صحیح اندازہ ہماری جماعت کے دوست نہیں لگا سکتے۔بالخصوص دو مبلغ تو ایسے ہیں جو شادی کے بہت تھوڑا عرصہ بعد ہی تبلیغ کے لئے چلے گئے اور اب تک باہر ہیں۔ان میں سے ایک دوست تو نو سال سے تبلیغ کے لئے گئے ہوئے ہیں۔حکیم فضل الرحمن صاحب ان کا نام ہے۔انہوں نے شادی کی اور شادی کے تھوڑے عرصہ کے بعد ہی انہیں تبلیغ کے لئے بھجوا دیا گیا۔وہ ایک نو جوان اور چھوٹی عمر کی بیوی کو چھوڑ کر گئے تھے مگر اب وہ آئیں گے تو انہیں ادھیڑ عمر کی بیوی ملے گی۔یہ قربانی کوئی معمولی قربانی نہیں۔میرے نزدیک تو کوئی نہایت ہی بے شرم اور بے حیا ہی ہو سکتا ہے جو اس قسم کی قربانیوں کی قیمت کو نہ سمجھے اور انہیں نظر انداز کر دے۔اسی طرح مولوی جلال الدین صاحب شمس ہیں، انہوں نے بڑی عمر میں شادی کی اور دو تین سال بعد ہی انہیں تبلیغ کے لئے بھیج دیا گیا۔ان کے ایک بچے نے اپنے باپ کو نہیں دیکھا اور باپ نہیں جانتا کہ میرا بچہ کیسا ہے؟ سوائے اس کے کہ تصویروں سے انہوں نے ایک دوسرے کو دیکھ لیا ہو۔وہ بھی کئی سال سے باہر ہیں اور اب تو لڑائی کی وجہ سے ان کا آنا اور بھی مشکل ہے۔قائمقام ہم بھیج نہیں سکتے اور خود وہ آنہیں سکتے۔کیونکہ راستے مخدوش ہیں۔اس لئے ہم نہیں کہہ سکتے کہ وہ کب واپس آئیں گے ؟ لڑائی ختم ہو اور حالات اعتدال پر آئیں تو اس کے بعد ان کا آنا ممکن ہے اور نہ معلوم اس میں ابھی اور کتنے سال لگ جائیں ؟ ان لوگوں کی ان قربانیوں کا کم سے کم بدلہ یہ ہے کہ ہماری جماعت کا ہر فرد دعائیں کرے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے اور ان کے اعزہ اور اقربا پر بھی رحم فرمائے۔میں تو سمجھتا ہوں کہ جو احمدی ان مبلغوں کو اپنی دعاؤں میں یاد نہیں رکھتا، اس کے ایمان میں ضرور کوئی نقص ہے اور مجھے شبہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کے ایمان میں خلل واقعہ ہو چکا ہے۔اسی طرح اور بھی کئی مبلغین ہیں جن کی قربانی گو اس حد تک نہیں مگر پھر بھی وہ سالہا سال سے اپنے اعزہ اور رشتہ داروں سے دور ہیں اور تم قسم کی تکالیف برداشت کر رہے ہیں۔ان مبلغین میں سے مغربی افریقہ کے دو مبلغ خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔ایک مولوی نذیر احمد (ابن بابو فقیر علی صاحب) اور دوسرے مولوی محمد صدیق 184