تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 182
اقتباس از خطبه جمعه فرمود و 28 است 1942ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم آجاتا۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وہ اس بات کے لئے تیار ہیں کہ اگر انہیں سلسلہ کی طرف سے تبلیغ کے لئے غیر ممالک میں نکل جانے کا حکم ملے تو وہ گھر میں آئیں ہوئی ہاتھ میں پکڑیں اور اپنی بیوی سے کہیں یہ سب گھر کی چیزیں تمہارے پاس ہیں، تم چکی پیسو اور اپنا اور اپنے بچوں کا گزارہ کرو۔میں امریکہ یا جرمنی یا روس جارہا ہوں کیونکہ وہاں کی حکومت نے ہمارے مبلغ کو نکال دیا ہے؟ اسی طرح ہر احمدی اپنے اپنے گھر کے دروازے بند کر کے اور سوئی ہاتھ میں لے کر نکل کھڑا ہو اور اس کے دل میں ذرا بھی یہ احساس نہ ہو کہ اس کی بیوی اور بچوں کا کیا بنے گا اور وہ کس طرح گزارہ کریں گے؟ اگر یہ زمانہ آ جائے تو تم خود ہی غور کر لو کہ تم میں سے کتنے ہیں جو اپنے نفس کو اس قسم کی قربانی پر تیار پاتے ہیں؟ تم مت سمجھو کہ یہ وقت دور ہے۔اب وہ دن ، جن میں جماعت کو اس رنگ میں قربانیاں کرنی پڑیں گی ، دور نہیں معلوم ہوتے بلکہ بہت ہی قریب آپہنچے ہیں اور جنگ کے بعد کے قریب ترین عرصہ میں ہمیں ان قربانیوں کو پیش کرنا ہوگا۔تیاری کا وقت ختم ہو رہا ہے، کام کا وقت نزدیک آ گیا ہے۔اس لئے یہ خیال اپنے ذہنوں میں سے نکال دو کہ ہم لڑنے والی قوم نہیں ہیں۔تم خون کی ندیوں میں چلنے کے لئے تیار رہو، اپنی گردنیں دشمنوں کے ہاتھوں کٹوانے کے لئے آمادہ رہو اور اس بات کو سمجھ لو کہ اس قسم کی قربانیوں کے بغیر جماعتی ترقی ناممکن ہے۔یہ خیال اپنے دلوں میں کبھی مت آنے دو کہ چونکہ تم امن سے رہتے ہو، فتنہ و فساد میں حصہ نہیں لیتے ، اس لئے دنیا تمہارا خون نہیں بہائے گی۔با امن قوموں کو بھی دنیا میں مارا جاتا ہے اور ان پر بھی ایسا وقت آتا ہے جب انہیں کہا جاتا ہے کہ مرتے جاؤ اور بڑھتے جاؤ۔مگر میرے لئے ابھی جماعت کی موجودہ حالت کو دیکھتے ہوئے یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ اس میں سے ہر شخص اس رنگ میں قربانی کرنے کے لئے تیار ہو گا ؟“ ( مطبوع الفضل مورخہ 05 ستمبر 1942ء) 182