تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 181 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 181

تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 28 اگست 1942ء تبلیغ کریں جس ملک میں داخل ہونے سے حکومت نے روک رکھا ہے۔ایسی صورت میں کیا تم سمجھتے ہو امریکہ والے تمہیں قتل نہیں کریں گے؟ وہ ہر اس شخص کو جو ان کے ہاتھ آئے گا قتل کریں گے اور کوشش کریں گے کہ ان کے ملک میں ہمارا کوئی مبلغ داخل نہ ہو۔لیکن اس کے باوجود جو مبلغ داخل ہونے میں کامیاب ہو جائے گا ، وہ ایسی شان کا مبلغ ہوگا کہ امریکہ کے لوگ خود بخود اس کی باتیں سننے پر مجبور ہوں گے۔مگر اب تو یہ ہوتا ہے کہ سیکنڈ یا تھرڈ کلاس میں ایک شخص سفر کرتا ہوا جاتا ہے، اسے ہر قسم کی سہولتیں میسر ہوتی ہیں اور وہ کسی غیر ملک میں جا کر تبلیغ کرنے لگ جاتا ہے۔ایسا شخص مبلغ نہیں ، سیاح ہے۔مبلغ قومیں وہی ہیں کہ جب حکومتیں انہیں اپنے ملک میں داخل ہونے سے روکتی ہیں تو وہ خاموش نہیں بیٹھ جاتیں بلکہ اپنی تجارت، اپنی زراعت، اپنی ملازمت اور اپنے گھر بار کو چھوڑ کر نکل کھڑی ہوتی ہیں اور ان میں سے ہر شخص یہ تہیہ کئے ہوئے ہوتا ہے کہ اب میں اس ملک میں داخل ہو کر رہوں گا اور تبلیغ کروں گا۔ایسی صورت میں دوہی باتیں ہو سکتی ہیں یا تو حکومت رستہ دے اور مبلغوں کو اپنے ملک میں داخل ہونے دے یا انہیں داخل نہ ہونے دے اور ان سب کو اپنے حکم سے مروا ڈالے۔اور یہ دونوں باتیں ایسی ہیں جو قر بانیوں کا مطالبہ کرتی ہیں۔اگر حکومت رستہ دے گی تو تم تبلیغ میں کامیاب ہو جاؤ گے اور اگر حکومت تمہیں مارے گی تو تم خون کی ندی میں بہہ کر اپنی منزل مقصود کو پہنچو گے۔پس یہ مت خیال کرو کہ مبلغوں کے لئے قربانیاں نہیں ہوتیں۔وہ تبلیغ جو ملکوں کو ہلا دیتی ہے، ابھی تک ہم نے شروع ہی نہیں کی۔لیکن اب اس جنگ کے بعد غالباً زیادہ انتظار نہیں کیا جائے گا اور تمہیں ان قربانیوں کے لئے اپنے گھروں سے باہر نکلنا پڑے گا۔مگر تم میں سے کتنے ہیں جو یہ قربانیاں کر سکتے ہیں؟ کیا تم سمجھتے ہو کہ سلسلہ کا خزانہ ان سب کے اخراجات برداشت کرے گا اور اگر دو چار لاکھ آدمی ہماری جماعت میں سے نکل کھڑے ہوں تو سلسلہ کے خزانہ سے ان کو مدد دی جائے گی ؟ سلسلہ کا خزانہ تو ان کے دسویں، سویں، ہزارویں بلکہ دس ہزارویں حصہ کو خالی روٹی بھی مہیا نہیں کر سکتا، کجا یہ کہ ان کے دوسرے اخراجات برداشت کرے۔تب کیا ہوگا؟ یہی ہوگا کہ تمہیں کہا جائے گا، تم کچکول ہاتھ میں لے کر نکل کھڑے ہو اور فیصلہ کر لو کہ جب تک اس ملک کی تبلیغ کا راستہ نہیں کھلتا تم واپس نہیں آؤ گے۔جولوگ آج قربانیوں کے وعدے کرتے ہیں، کیا وہ سمجھتے ہیں کہ کل اگر ان سے اس رنگ میں قربانیوں کا مطالبہ کیا گیا تو وہ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے نکل کھڑے ہوں گے؟ میں سمجھتا ہوں کہ قربانیوں کا دعوئی کرنا آسان ہوتا ہے اور شاید اگر موت کا سوال ہوتا تو ہم میں سے ہر شخص اپنی جان دینے کے لئے آگے 181