تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 180
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 28 اگست 1942ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد دوم پس میں نہیں کہہ سکتا کہ جن لوگوں نے قربانی کے وعدے کئے ہیں، ان میں سے کتنے اس وعدے پر قائم رہ سکتے ہیں؟ میں ان سب کو دیانتدار سمجھتا ہوں اور میں یقین رکھتا ہوں کہ انہوں نے یہ وعدے سچائی کے ساتھ کئے ہیں مگر پھر بھی میں نہیں کہہ سکتا کہ وقت پر کتنے لوگ ہوں گے جو واقعہ میں قربانی کرنے کے لئے تیار ہوں گے؟“ " میں نے تمہیں بارہا سمجھایا ہے کہ تم یہ مت سمجھو کہ ہم چونکہ تبلیغی جماعت ہیں، اس لئے کوئی دشمن ہماری گردنوں کو نہیں کاٹے گا۔ایسا خیال کرنا، اول درجہ کی نادانی اور حماقت ہے۔میں نے بار بار تمہارے ذہنوں سے اس بات کو نکالا ہے مگر میں دیکھتا ہوں کہ جب بھی کوئی ایسا ذ کر آئے ، ہماری جماعت کے بعض لوگ فورا کہہ دیا کرتے ہیں کہ یہ کیسی بے وقوفی کی بات ہے، ہم تبلیغ کرنے والے ہیں، لڑنے والے کہاں ہیں کہ ہماری گردنیں کاٹنے کے لئے قو میں آگے بڑھیں گی ؟ مگر یہ خیال بالکل غلط اور باطل ہے۔دنیا میں ہمیشہ مبلغوں کی گردنیں کائی جاتی ہیں۔مسیحیوں کی تین سو سال تک گردنیں کاٹی گئیں۔حالانکہ مسیحی جنگ سے جتنے متنفر تھے، اتنے ہم نہیں۔ہمیں تو اسلام وقت پر لڑائی کی اجازت دیتا ہے مگر مسیحیوں کو لڑائی کی کسی صورت میں اجازت نہیں تھی۔لیکن باوجود اس کے ان کی گردنیں کاٹی گئیں اور سینکڑوں سال تک کائی گئیں۔اسی طرح جب ہم بھی صحیح معنوں میں تبلیغ کریں گے تو دنیا اس بات پر مجبور ہوگی کہ ہماری گردنوں کو کائے۔ابھی تک تو ہم نے تبلیغ کو اس رنگ میں جاری ہی نہیں کیا کہ ہماری جماعت کے آدمیوں کی گردنیں کاٹی جائیں۔تمہارا مبلغ امریکہ میں گیا اور اسے وہاں کی حکومت نے نکال دیا مگر تم نے کیا کیا ؟ تم انسا الله وانا اليه راجعون پڑھ کر بیٹھ گئے۔مگر جب حقیقی تبلیغ کا وقت آئے گا، اس وقت یہ طریق اختیار نہیں کیا جائے گا۔فرض کر وہ تمہارا مبلغ امریکہ میں جاتا ہے اور اسے وہاں کی حکومت نکال دیتی ہے تو اس وقت یہ نہیں ہوگا کہ تم خاموشی سے گھروں میں بیٹھ رہو بلکہ تمہارا دوسرا مبلغ اس جگہ جائے گا، اس کو نکال دیا جائے گا تو تیسرا مبلغ جائے گا، اس کو نکال دیا جائے گا تو چوتھا مبلغ جائے گا، اس طرح ایک کے بعد دوسرے اور دوسرے کے بعد تیسرے اور تیسرے کے بعد چوتھے شخص کو وہاں جانا پڑے گا اور جب اس طرح بھی کوئی اثر نہیں ہوگا تو ہزاروں شخصوں سے کہا جائے گا کہ وہ اپنے اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوں اور خواہ انہیں بھوکا رہنا پڑے، خواہ پیاس کی تکلیف برداشت کرنی پڑے، خواہ پیدل سفر کرنا پڑے، وہ جائیں اور اس ملک میں داخل ہو کر 180