تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 5 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 5

تحریک جدید - ایک البی تحریک جلد دوم اقتباس از خطبه عید الاضحیہ فرمودہ 20 جنوری 1940ء ہر قسم کی قربانی میں حصہ لیا۔اور بے شک یہ خوشی منانے کا طلحہ زبیر عبدالرحمن بن عوف حمزہ، عباس اور عثمان بن مظعون رضی اللہ تعالیٰ کو حق حاصل تھا، جنہوں نے اپنی جانوں، اپنے مالوں ، اپنی اولادوں ، اپنے رشتہ داروں اور اپنی عزیز سے عزیز چیزوں کو خدا کے لئے قربان کر دیا۔مگر دوسروں کا کیا حق ہے کہ وہ اس خوشی میں شریک ہوں؟ ایک لطیفہ مشہور ہے، کہتے ہیں نظام الدین صاحب اولیاء (جن کی طرف خواجہ حسن نظامی صاحب بھی اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں ) ایک دفعہ اپنے مریدوں کے ساتھ بازار میں سے گزر رہے تھے کہ انہیں ایک خوبصورت لڑکا نظر آیا جسے آگے بڑھ کر انہوں نے چوم لیا۔یہ دیکھ کر ان کے تمام مرید ایک ایک کر کے آگے بڑھے اور انہوں نے اس بچے کو چومنا شروع کر دیا مگر ان کے ایک مرید جو بعد میں ان کے خلیفہ بھی ہوئے ، خاموش کھڑے رہے اور انہوں نے اس بچے کو نہ چوما۔یہ دیکھ کر باقی سب نے آپس میں چہ مگوئیاں شروع کر دیں اور کہا کہ پیر صاحب نے اس بچہ کو چو ما مگر اس نے نہیں چوما۔معلوم ہوتا ہے اس کے اخلاص میں کوئی نقص ہے۔حالانکہ اسے چاہئے تھا کہ یہ پیر صاحب کی نقل کرتا اور جس طرح پیر صاحب نے اس بچہ کو چوما تھا اسی طرح یہ بھی چومتا۔اس نے ان باتوں کو سنا مگر کوئی جواب نہ دیا اور حضرت نظام الدین صاحب اولیاء پھر آگے چل پڑے۔چلتے چلتے انہوں نے ایک بھٹیاری کو دیکھا کہ وہ دانے بھون رہی ہے اور بھٹی میں سے آگ کے شعلے نکل رہے ہیں۔حضرت نظام الدین صاحب اولیاء آگے بڑھے اور انہوں نے آگ کے ان شعلوں کو چوم لیا۔یہ دیکھ کر اور تو کسی مرید نے آگے بڑھنے کی ہمت نہ کی مگر وہی مرید جس نے بچہ کو نہیں چوما تھا آگے بڑھا اور اس نے بھی شعلہ کو چوم لیا۔پھر اس نے باقیوں سے کہا کہ اب شعلے کو کیوں نہیں چومتے ؟ ہمت ہے تو آگے بڑھو اور اسے چومو! مگر سب پیچھے ہٹ گئے اور کسی نے ان شعلوں کو چومنے کی جرات نہ کی۔ان کو تو خدا نے محفوظ رکھا اور باوجو د شعلوں کو بوسہ دینے کے نہ ان کے سر کے بال جلے اور نہ داڑھی کا کوئی بال جلا لیکن اگر دوسرے بھی چومتے تو انہیں خطرہ تھا۔کہ ان کے سر اور داڑھی کے بال جل جائیں گے اور وہ لنڈ منڈ ہو کر گھر پہنچیں گے۔غرض جب کوئی بھی آگے نہ بڑھا تو وہ مرید جس نے شعلوں کو چوما تھا کہنے لگا: میں نے تمہارے اعتراض کو سن لیا تھا مگر بات یہ ہے کہ تم حقیقت کو نہیں پہنچے تھے۔تم نے سمجھا کہ پیر صاحب نے اس لڑکے کو چوما ہے۔حالانکہ پیر صاحب نے اس لڑکے کو نہیں چوما، اس کے اندر کوئی روحانی قابلیت نظر آئی ہوگی جس نے کسی آئندہ زمانہ میں ظاہر ہونا ہوگا اور اسی وجہ سے انہوں نے اسے چو ما مگر مجھے اس میں وہ الہی جلوہ نظر نہ آیا اس لئے میں نے پیر 5