تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 155
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرموده 09 جنوری 1942ء اور جس کا ایک ایک دن اس حسرت میں گزرتا ہے کہ کاش میرے پاس اتنی رقم جمع ہو جائے کہ میں ایک دفعہ عید کے موقع پر قربانی کر کے اس کا کچھ گوشت خدا کی راہ میں تقسیم کر دوں اور کچھ گوشت اپنے دوستوں کو تحفہ پیش کروں۔وہ اگر سال بھر کی محنت اور تگ و دو کے بعد ایک معمولی سی بکری یا چھوٹی سی دنبی قربانی کرتا ہے تو کیا تم سمجھتے ہو کہ خدا تعالیٰ اس کی معمولی سی بکری یا چھوٹی سی دنبی کو رد کر دے گا اور اس امیر کے موٹے تازے دنبوں کو قبول کر لے گا؟ اگر خدا تعالیٰ انسانی عمل پر فیصلہ کرتا تو یقیناً اس امیر کے موٹے تازے دنبے قبول کر لئے جاتے اور اس غریب کی معمولی سی بکری یا چھوٹی سی دنبی رد کر دی جاتی۔مگر اللہ تعالیٰ کا فیصلہ انسانی اعمال پر نہیں ہوگا بلکہ وہ فرماتا ہے:۔يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمْ (الحج:38 ) خدا تعالیٰ کے حضور قربانی کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا۔اگر اس کے پاس گوشت اور خون پہنچا کرتا تو وہ اچھا گوشت پسند کر لیتا اور تب وہ ان قربانیوں کو قبول کر لیتا ، جن میں بہت زیادہ خون بہایا گیا ہو۔مگر وہ فرماتا ہے۔ہمارے پاس ان چیزوں میں سے کوئی چیز نہیں پہنچتی۔ہمارے پاس تو يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمْ (الحج : 38) قربانی کے پیچھے جو نیت ہوتی ہے، وہ پہنچا کرتی ہے۔اگر ایک چھوٹی سی دنبی ذبح کرنے والے کی نیت بہت اعلی تھی اور دوسو بڑے بڑے دنبے ذبح کرنے والے کی نیت ایسی اعلیٰ نہیں تھی اور اگر اگلے جہان میں تمام قربانیوں نے متمثل ہونا ہے۔جیسا کہ قرآن کریم سے اس کا پتہ چلتا ہے تو قیامت کے دن جس نے دو سود نے ذبح کئے ہوں گے۔اگر اس کے ساتھ اعلیٰ اخلاص نہ ہوگا تو اس کے ساتھ دوسود نے نہیں ہوں گے بلکہ ایک مریل سی دنبی ہوگی اور جس نے ایک چھوٹی سی دنبی ذبح کی تھی۔اگر اس نے اعلیٰ اخلاص اور محبت کے ساتھ یہ قربانی کی تھی تو قیامت کے دن اس کے ساتھ ایک چھوٹی سی دنبی نہیں ہوگی بلکہ ہزار ہا موٹے تازے دنبے ہوں گے۔کیونکہ اس جہان میں چیزیں بدل جاتی ہیں اور وہ سب کی سب نیست کے تابع ہو جاتی ہیں۔تو یا درکھو اعمال نیتوں کے تابع ہیں، نیتیں اعمال کے تابع نہیں ہیں۔پس اپنی نیت کے مطابق ہر انسان خدا تعالیٰ کے رستہ میں جو قربانی کرتا ہے، خدا تعالیٰ اس سے ویسا ہی سلوک کرتا ہے۔جیسے اس کی نیت ہوتی ہے اور جبکہ نیت ہر انسان کے اختیار میں ہے مگر عمل اس کے اختیار میں نہیں۔تو کتنے افسوس کی 155