تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 154 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 154

خطبہ جمعہ فرمودہ 09 جنوری 1942ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم تمیں لاکھ نہ دیتا بلکہ جس طرح اس نے سالم مٹھی جو کی خدا تعالیٰ کی راہ میں پیش کر دی تھی ، اسی طرح وہ سب کو طرح وہ کا سب روپیہ خدا تعالیٰ کی راہ میں دے دیتا اور اپنے پاس ایک پیسہ بھی نہ رکھتا۔تو رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں الاعمال بالنيات۔سیمت خیال کرو کہ تمہارے اعمال ظاہری صورت میں خدا تعالیٰ کے پاس جاتے ہیں، وہ ظاہری صورت میں نہیں جاتے بلکہ جس قسم کی نیت کے تابع ہوتے ہیں، اسی قسم کی نیت کے ساتھ خدا تعالیٰ تک پہنچتے ہیں۔ایک ایسا شخص جو اچھی طرح بول بھی نہیں سکتا، وہ اگر ٹوٹی پھوٹی زبان میں کسی کو تبلیغ کرتا ہے تو کیا تم سمجھتے ہو کہ خدا تعالیٰ کے حضور اس کا مقام اونی ہوگا اور وہ شخص جو بڑالسان ہو، بڑا مشہور لیکچرار ہو اور اپنی تقریر سے لوگوں کو گرویدہ بنا لیتا ہو، اس کا مقام زیادہ ہوگا ؟ ایسا ہر گز نہیں ہوگا۔بلکہ خدا تعالیٰ کے حضور دونوں کی نیت دیکھی جائے گی۔بسا اوقات ایسا ہوگا کہ جو شخص نہایت عمدہ تقریر کرنے والا ہے، اس کی نیت خدا تعالیٰ کی رضا کا حصول نہیں ہوگی بلکہ وہ اس لئے تقریریں کرتا ہوگا تا کہ لوگ واہ واہ کریں اور اس کی تعریف کریں۔پھر یہ بھی ممکن ہے کہ اس کی نیت تو خدا تعالیٰ کی رضا کا حصول اور اس کی مخلوق کو فائدہ پہنچانا ہی ہو مگر اس کے دل میں وہ سوز اور گداز نہ ہو، جس کے بغیر قلوب کی اصلاح نہیں ہوسکتی۔پھر بعض دفعہ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ ایک شخص نہایت عمدہ تقریر کرنے والا ہو، اس کے دل میں سوز اور گداز بھی ہو مگر اس کے اندر یہ آگ نہ ہو کہ جب تک دنیا کے کونہ کونہ میں میں خدا تعالیٰ کا پیغام نہ پہنچا لوں گا، آرام کا سانس نہیں لوں گا۔اس کے مقابلہ میں وہ شخص جو بہت تھوڑی باتیں کر سکتا ہے، جو لمبی تقریریں نہیں کر سکتا مگر اس کے دل میں ہر وقت یہ آگ سلگتی رہتی ہے کہ میں خدا تعالیٰ کا پیغام اس کی بھولی بھٹکی مخلوق تک پہنچاؤں اور وہ رات اور دن ، کرب اور بے اطمینانی کے ساتھ گزارتا ہے اور کہتا ہے کہ جب تک میں اپنے بھائیوں کو خدا تعالیٰ کی محبت اور اس کے وصال کی طرف نہ لے آؤں گا، مجھے امن اور چین حاصل نہیں ہوگا ، یقیناً خدا تعالیٰ کے حضور زیادہ بلند مقام رکھے گا اور یقیناً اس کے ٹوٹے پھوٹے الفاظ ، خدا تعالیٰ کو دوسرے کی اعلیٰ درجہ کی تقریروں سے زیادہ پسند آئیں گے۔کیونکہ انما الاعمال بالنیات۔پہلے شخص کی تقریر کے پیچھے جونیت تھی، وہ ایسی اعلیٰ نہیں تھی۔مگر اس کے ٹوٹے پھوٹے الفاظ کے پیچھے جو نیت تھی ، وہ بہت اعلی تھی۔اسی طرح قربانی کے متعلق قرآن کریم نے یہ اصول بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ خون اور گوشت کو نہیں دیکھتا بلکہ قربانی کرنے والے کی نیت کو دیکھتا ہے۔ایک امیر آدمی آسانی کے ساتھ سو اونٹ یا سوڈ نے خدا تعالیٰ کی راہ میں ذبح کر سکتا ہے۔لیکن ایک غریب آدمی جو سال بھر قربانی کے لئے پیسے جمع کرتا رہتا ہے 154