تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 153 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 153

۔خطبہ جمعہ فرموده 09 جنوری 1942ء تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد دوم سامنے پیش کی جائے گی۔کیونکہ انما الاعمال بالنیات اعمال نیت کے تابع ہوتے ہیں، نہ کہ نیست اعمال کے تابع ہوتی ہے۔اگر ان لوگوں نے صرف ایک دفعہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں شہید ہونے کا ارادہ کیا اور وہ شہید ہو گئے تو خالد نے سینکڑوں دفعہ خدا تعالیٰ کی راہ میں شہید ہونے کا ارادہ کیا۔گو حکمت الہی نے انہیں ظاہر میں شہید نہ ہونے دیا۔اگر عمل پر خدا تعالیٰ جزا دیتا تو وہ ہزاروں لوگ جن کے دلوں میں بہت زیادہ قربانی کا جذبہ ہوتا ہے مگر حالات کی وجہ سے وہ اپنے دل کے حوصلے نہیں نکال سکتے اور قربانیاں اپنے دل کے ارادہ کے مطابق نہیں کر سکتے ، وہ تو محروم رہ جاتے اور جن کو کسی قربانی میں شریک ہونے کا موقع مل جاتا گوان کا دل بہت زیادہ قربانی پر آمادہ نہ ہوتا، وہ زیادہ ثواب لے جاتے۔مگر اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کرے گا۔پھر اگر انسانی اعمال پر ہی اللہ تعالیٰ کی جزا کا انحصار ہوتا تو جتنے امراء ہیں، وہ دنیا میں بھی آرام سے رہیں اور اگلے جہان بھی زیادہ انعامات لے جائیں۔مگر ایسا نہیں ہوگا۔ایک کروڑ پتی آدمی اگر چاہے تو آسانی سے دس لاکھ روپیہ چندہ دے سکتا ہے۔مگر ایک غریب آدمی جس کے پاس صرف ایک مٹھی بھر آتا ہے ، وہ اس سے ایک دانہ زیادہ بھی خدا تعالیٰ کی راہ میں نہیں دے سکتا۔اب اگر خدا تعالیٰ کے حضور محض یہی بات دیکھی جاتی کہ ایک شخص نے دس لاکھ روپے دیئے ہیں اور دوسرے نے صرف مٹھی بھر آٹا۔تو کہا جا سکتا تھا کہ خدا تعالیٰ انسانی عمل کو دیکھتا ہے، اس کی نیت کو نہیں دیکھتا اور اس صورت میں صرف وہی لوگ انعامات حاصل کر سکتے ، جو امراء ہوتے یا جنہیں کسی قربانی میں شامل ہونے کا موقع ملا ہوتا۔مگر اللہ تعالیٰ ان باتوں کو نہیں دیکھتا اور نہ اس کی نظر ظاہر پر ہوتی ہے۔بلکہ وہ انسان کی نیت اور اس کے ارادہ کو دیکھتا اور اسی کے مطابق اس سے سلوک کرتا ہے۔ایک ایسا شخص جس کے پاس ایک کروڑ روپیہ موجود ہے، وہ اگر دس لاکھ روپیہ چندہ دے دیتا ہے تو گو یہ بھی ایک نیکی ہے مگر اس کے مقابلہ میں وہ شخص جس کے پاس صرف مٹھی بھر جو تھے اور اس نے وہ تمام کے تمام جو خدا تعالیٰ کی راہ میں دے دیئے اور اپنے لئے یا اپنی بیوی اور بچوں کے لئے اس نے کچھ نہیں رکھا۔وہ یقیناً ان دس لاکھ روپے دینے والے سے خدا تعالیٰ کے حضور زیادہ عزت کا مستحق ہے۔کیونکہ دس لاکھ روپے دینے والے کی نیت یہ تھی کہ میں اپنی جائیداد کا دسواں حصہ خدا تعالیٰ کی راہ میں دے دوں اور مٹھی بھر جو دینے والے کی نیت یہ تھی کہ میرے پاس جو کچھ ہے، وہ میں خدا تعالیٰ کے رستہ میں قربان کر دوں۔بے شک اس کے پاس صرف مٹھی بھر جو تھے ، جو اس نے دے دیئے۔لیکن اس نیت کے مطابق اگر اس کے پاس ایک کروڑ روپیہ ہوتا تو وہ اس ایک کروڑ روپیہ میں سے دس لاکھ نہ دیتا، ہیں لاکھ نہ دیتا، 153