تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 135 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 135

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 05 دسمبر 1941ء غرض میری بات سے یہ دھوکا نہ کھاؤ کہ کوئی مشکل آئے گی ہی نہیں۔ایسا نہ ہو کہ چند روز دعا ئیں کرو اور پھر کہو، جی دیکھ لیا بڑے بڑے خطبے پڑھتے تھے کہ مشکلات دور ہو جائیں گی مگر وہ بدستور ہیں۔بعض لوگ چند دن نمازیں پڑھ لیں تو کہنے لگ جاتے ہیں کہ بہت نمازیں پڑھیں ، بڑے روزے رکھے مگر ملا ملا یا کچھ بھی نہیں۔دراصل ”کچھ“ کے معنے ان کے نزدیک اور ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک کچھ اور ان کی مثال اس میراثی کی سی ہوتی ہے، جس کی نسبت کہتے ہیں کہ اس نے کسی مولوی کا وعظ سنا کہ نمازیں پڑھنے میں بڑے فائدے ہیں۔دیہاتیوں کے نزدیک تو فائدہ اسی کو کہتے ہیں، جو فو ر امل جائے۔اس نے مولوی صاحب سے پوچھا کہ نماز سے کیا فائدہ ہوتا ہے؟ وہ کچھ اور تو نہ بتا سکا، صرف یہ کہا کہ منہ پر نور برسنے لگتا ہے۔اس نے سوچا چلونو رہی سہی اور نماز شروع کر دی۔صبح کی نماز کا وقت آیا تو سردی بہت تھی ، اس نے مولوی سے سنا تھا کہ تیم سے نماز ہو جاتی ہے۔اس نے اندھیرے میں ہی تیم کر کے نماز پڑھ لی اور جب ذرا روشنی ہوئی تو بیوی سے کہا کہ دیکھو تو سہی میرے چہرہ پر کوئی نور ہے۔اس نے کہا کہ مجھے تو پتہ نہیں نور کیا ہوتا ہے؟ لیکن تمہارے منہ پر سیاہی آگے سے زیادہ ہے۔اصل بات یہ تھی کہ اس نے اندھیرے میں تمیم کرنے کے لئے جو ہاتھ مارے تو وہ توے پر پڑے اور ہاتھوں پر بھی اور منہ پر بھی سیا ہی لگ گئی۔جب بیوی نے کہا کہ منہ پر سیاہی زیادہ ہے تو اس نے اپنے ہاتھوں کو دیکھا اور کہا کہ اگر نور کالا ہوتا ہے تو پھر تو گٹھا باندھ کر آیا ہے، دیکھ لو میرے ہاتھ بھی کالے ہیں۔تو دنیا میں ایک طبقہ ایسا بھی ہوتا ہے جو خدا تعالیٰ کی باتوں کو بھی جسمانیات کی طرف لے جاتا ہے اور ایسے لوگوں کو میں متنبہ کرتا ہوں کہ میری اس بات سے وہ دھوکا میں نہ پڑیں۔مصائب اور مشکلا انبیاء کا خاصہ ہے۔حدیث میں آتا ہے کہ جتنا کوئی شخص خدا تعالیٰ کا پیارا ہوتا ہے، اتنا ہی وہ زیادہ مشکلات میں گھرا ہوا ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ کی طرف سے برکات کے وعدہ سے میرا مطلب وہ ہے، جو خدا تعالیٰ کیلئے برکت دینے کا رنگ ہے۔( مطبوع الفضل 12 دسمبر 1941ء) 135