تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 124 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 124

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 28 نومبر 1941ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم معنی تو یہ ہیں کہ وہ سو یا ڈیڑھ سوروپیہ ماہوار لے کر سات آنے ماہوار کی قربانی کرتا ہے، حالانکہ اس سے زیادہ وہ اپنی چوڑھی کو دے دیتا ہے مگر باوجود اس کے کہ وہ خدا تعالیٰ کے سامنے وہ چیز پیش کرتا ہے، جو اس کا چوڑھا بھی قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہو سکتا۔وہ خدا تعالیٰ کے سامنے وہ چیز پیش کرتا ہے، جو اس کا دھوبی بھی قبول کرنے کو تیار نہیں ہوسکتا۔پھر بھی وہ سمجھتا ہے کہ اس کا نام خدا تعالیٰ کی بارگاہ میں ان لوگوں میں لکھا ہونا چاہئے ، جنہوں نے اس کا قرب حاصل کیا اور جن پر اس کے غیر معمولی فضل نازل ہوں گے۔تو یہ ایک بڑی بھاری غلطی ہے، جو بعض دوستوں کو لگی ہوئی ہے کہ انہوں نے پہلے سال کا چندہ اپنی استطاعت سے بہت کم دے کر اسے بڑھانا شروع کر دیا۔حالانکہ یہ رعایت صرف ان لوگوں کے لئے تھی جنہوں نے پہلے تین سالوں میں بہت زیادہ چندہ دے دیا تھا اور اب ان کے لئے اسی نسبت سے مسلسل دس سال تک قربانی کرتے چلے جانا مشکل تھا۔پس ایسے لوگ جنہوں نے اپنی تمام کی تمام پونچی پہلے سال یا ابتدائی تین سالوں میں دے دی تھی ی وہ لوگ جنہوں نے اپنی حیثیت سے بڑھ کر چندہ دے دیا تھا۔ان کو آئندہ اس تحریک میں شامل رکھنے کے لئے ضروری تھا کہ ان سے رعایتیں کی جاتیں تا کہ وہ لوگ جنہوں نے قربانی کا نہایت اعلیٰ نمونہ دکھایا تھا، وہ اپنی مجبوری کی وجہ سے دوسروں سے پیچھے نہ رہ جائیں۔مگر اس سے ان لوگوں کا فائدہ اٹھا لینا جو اپنی حیثیت اور مالی وسعت کے مقابلہ میں بہت کم قربانی کر رہے ہیں، یہ انسانوں کی نگاہ میں تو بے شک اچھا بن جانے والی بات ہے مگر خدا تعالیٰ کی نگاہ میں انہیں اچھا نہیں بنا سکتی۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے اس چندہ میں حصہ لینے والے وہ لوگ بھی تھے، جنہوں نے ایک سال میں دو دو ماہ کی آمد دے دی تھی۔اسی طرح اس میں ایسے بھی لوگ شامل تھے، جنہوں نے اپنا تمام اندوختہ دے دیا تھا۔ان لوگوں کے ساتھ میں نے یہ رعایت کر دی تھی کہ چونکہ وہ اپنا سارا اندوختہ دے چکے ہیں یا اپنی حیثیت سے بڑھ کر مالی قربانی کر چکے ہیں،اس لئے ان کے چندوں کو یا تو باقی سالوں میں پھیلا لیا جائے یا پھر پہلے سال انہوں نے جس قدر چندہ دیا تھا، اسی قدر چوتھے سال دے دیں اور پھر ہر سال اس میں زیادتی کرتیں چلے جائیں۔مگر ان کے علاوہ ہماری جماعت میں خدا تعالیٰ کے فضل سے ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنی ایک ماہ کی آمد سے زیادہ کا چندہ دیتے ہیں بلکہ ایسے بھی ہیں جو قریباً دو ماہ کی آمد کے برابر اس میں چندہ دیتے ہیں۔اسی طرح بعض اپنی ماہوار آمد کا نوے فیصدی چندہ دیتے ہیں، بعض اپنی آمد کا اسی فیصدی چندہ دیتے ہیں، بعض اپنی ماہوار آمد کا ستر فیصدی چندہ دیتے ہیں اور بعض اپنی آمد کا ساٹھ فیصدی چندہ دیتے ہیں اور بعض اپنی ماہوار آمد 124