تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 125 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 125

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم رو۔اقتباس از خطبه جمعه فرموده 28 نومبر 1941ء کا پچاس فیصدی چندہ دیتے ہیں۔مگر جیسا کہ میں نے بتایا ہے بعض لوگ ایسے ہیں، جنہوں نے صرف پانچ وپے چندہ دے کر اسے بڑھانا شروع کر دیا اور سمجھ لیا کہ وہ سابقون میں شامل ہو گئے ہیں۔ایسے لوگوں کی اگر سور و پیہ ماہوار آمد ہے اور وہ پانچ روپیہ چندہ دیتے ہیں تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ وہ بارہ سور و پیہ سالانہ آمد پر صرف پانچ روپے چندہ دیتے ہیں۔اگر وہ فی سینکڑہ صرف آٹھ آنے چندہ دیتے تب بھی چھ روپے بنتے مگر وہ پانچ روپے دیتے ہیں ، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایک سور و پی آمد کے مقابلہ میں آٹھ آنے کی بھی قربانی نہیں کرتے اور اگر کسی کی ڈیڑھ سو روپیہ ماہوار آمد ہے اور وہ صرف پانچ روپے چندہ دیتا ہے تو اس کے معنی یہ بنتے ہیں کہ وہ ڈیڑھ سو لے کر صرف تین چار آنے خدا تعالیٰ کو دیتا اور پھر اس کا نام قربانی رکھتا ہے۔حالانکہ ادنیٰ سے ادنی کاموں پر بھی اگر کوئی شخص تین چار آنے خرچ کر دے تو وہ اسے قربانی نہیں کہتا۔عام انسانی ضروریات پر ہی ہر شخص اس سے بہت زیادہ خرچ کر دیا کرتا ہے۔اسی طرح صدقہ خیرات کے طور پر انسان ماہوار اس سے بھی زیادہ خرچ کر دیتا ہے مگر کبھی اس کا نام قربانی نہیں رکھتا۔کجا یہ کہ وہ عظیم الشان قربانی جس سے اشاعت دین کے لئے ایک مستقل بنیا د رکھی جانے والی ہے۔اس میں ایک شخص سو یاڈیڑھ سوروپیہ ماہوار آمد رکھتے ہوئے اتنا قلیل حصہ لے اور پھر یہ خیال کرے کہ وہ خدا تعالیٰ کے حضور سابقون میں شمار کیا جائے گا۔ایسے لوگوں میں بالعموم وہ ہیں، جو بعد میں شامل ہوئے۔اگر وہ اس طرح نام کی قربانی کرنے کی بجائے یہ خیال کرتے کہ ہم بعد میں شامل ہوئے ہیں ہمیں زیادہ زور دینا چاہئے تاکہ پہلوں کے برابر ہو سکیں تو یہ ان کے لئے اچھا ہوتا۔بے شک اکٹھا چندہ دینا ان کے لئے مشکل امر تھا۔مگر وہ یہ کر سکتے تھے کہ اپنے گذشتہ چندہ کو اگلے سالوں میں پھیلا کر ادا کرتے اور اگر پھر بھی بوجھ ان کی طاقت سے بالا ہوتا تو تحریک کے سالوں کے بعد ایک دو سال میں اسے ادا کر دیتے کیونکہ آخر وہ بعد میں شامل ہوئے تھے اور یہ حق ان کو مل سکتا تھا کہ گذشتہ چندہ کو بعد کے سالوں میں پھیلا دیتے۔بہر حال قربانی وہی کہلا سکتی ہے، جو واقعہ میں قربانی ہو۔اب جب کہ صرف تین سال تحریک جدید کے رہ گئے ہیں، میں ایسے لوگوں کو بھی ان کی غلطی کی اصلاح کی طرف توجہ دلاتا ہوں اور انہیں نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اب بھی اپنے چندوں کو درست کر لیں۔جس کی صورت یہ ہوسکتی ہے کہ وہ گذشتہ چندے آئندہ سالوں میں پھیلا کر ادا کر دیں۔تحریک جدید کی میعاد کے اختتام پر ان کے ذمہ جو بقایا رہ جائے گا، اسے وہ بعد کے دو تین سالوں میں ادا کر سکتے ہیں۔بہر حال انہیں اپنی اصلاح کرنی چاہئے اور اس غلطی کی تلافی کی کوشش کرنی چاہئے۔125