تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 123 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 123

تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 28 نومبر 1941ء میں ہر سال کچھ نہ کچھ اضافہ کرتا ہے گو وہ اضافہ کیسا ہی معمولی کیوں نہ ہو۔اور اگر بعض نے ابھی تک اس کو رنگ میں اپنے چندوں کو نہیں بدلا تو میں خیال کرتا ہوں کہ وہ اب بدل دیں گے اور انہی لوگوں کی لسٹ میں آنے کی کوشش کریں گے جو ہر سال پہلے سال سے اضافہ کے ساتھ چندہ پیش کرتے ہیں۔مگر بعض لوگوں نے اس کے مفہوم کے سمجھنے میں سخت غلطی کی ہے اور انہوں نے اس قانون سے ایسے رنگ میں فائدہ اٹھانا چاہا ہے جو سیج نہیں۔یعنی انہوں نے اتنے الفاظ کو تو لے لیا کہ ہر دفعہ چندہ بڑھا دیا جائے مگر انہوں نے اس امر کو مد نظر نہیں رکھا کہ ان کا چندہ قربانی والا چندہ ہے یا نہیں۔مثلاً ہماری جماعت میں بعض ایسے لوگ پائے جاتے ہیں، جن کی آمد سویا ڈیڑھ سوروپے ماہوار ہے مگر انہوں نے پہلے سال کا چندہ پانچ روپے دیا ہے، دوسرے سال انہوں نے پانچ روپے ایک آنہ دے دیا، تیسرے سال انہوں نے پانچ روپے دو آنے دے دیئے اور چوتھے سال انہوں نے پانچ روپے تین آنے دے دیئے۔اب بظاہر تو وہ بھی سابقون میں شامل ہیں اور دسویں سال پانچ روپے نو آنے چندہ دے کر سابقون کی لسٹ میں شامل ہو جائیں گے، جو ہم تیار کریں گے۔مگر اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ ان کی قربانی کی کیا حقیقت ہے؟ یہ لوگ بظاہر بڑھا کر چندہ دینے والے ہیں مگر خدا تعالیٰ کی نگاہ میں بڑھا کر دینے والے نہیں ہو سکتے کیونکہ وہ اپنی سالانہ آمد کا ایک فیصدی چندہ میں دیتے ہیں، جو ایک نہایت ہی ادنیٰ قربانی ہے۔اب تو ہم نے سینما دیکھنے کی ممانعت کی ہوئی ہے۔لیکن اس سے پہلے یہی سواور ڈیڑھ سوروپے ماہوار آمد رکھنے والے سال بھر میں پانچ دس روپے سینمادیکھنے پر ہی خرچ کر دیا کرتے تھے۔پھر کئی چھوٹی چھوٹی چیزیں ہوتی ہیں جن پر وہ اس سے بہت زیادہ روپے خرچ کر دیا کرتے ہیں۔مگر جب اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانی کا سوال آتا ہے تو وہ پانچ یا دس روپے سے زیادہ قربانی نہیں کر سکتے۔ایسے لوگوں کو میں بے شک قاعدہ کی رو سے کچھ نہیں کہہ سکتا مگر ان کے تقویٰ کی طرف ان کو توجہ دلاتا ہوں۔بیشک ظاہری طور پر وہ اپنا چندہ زیادہ کرنے والے تو ہیں لیکن وہ سوچیں کہ کیا خدا تعالیٰ کی نگاہ میں بھی اعلیٰ درجہ میں شامل ہیں؟ جب وہ سینما پر اس سے زیادہ خرچ کر دیا کرتے تھے ، جب وہ گھر کی اور بیسیوں چھوٹی چھوٹی ضروریات پر اس سے بہت زیادہ روپیہ خرچ کر دیا کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے حضور ان کی یہ قربانی کس طرح قبول کی جاسکتی ہے، جو ادنیٰ سے ادنی قربانی ہے؟ درحقیقت وہی لوگ قربانی کرنے والے ہیں، جو قربانی کے بوجھ کو محسوس کریں لیکن اگر کوئی شخص سو یا ڈیڑھ سوروپے ماہوار آمد رکھتا ہو اور وہ پانچ روپے خدا تعالیٰ کے رستہ میں دے دے تو کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ اس نے ایسی مالی قربانی کی ہے جس کے بوجھ کو اس نے محسوس کیا ہے؟ اس کے 123