تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 102 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 102

خطبہ جمعہ فرمودہ 25 جولائی 1941ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد دوم کوئی فلسفی کہہ سکتا ہے کہ پھر ایسی مثالیں تو روز پیش آسکتی ہیں اور حکومت کی تباہی کا موجب ہوسکتی۔ہیں۔مگر یہ درست نہیں اس قسم کی بات ایک ہی دفعہ ہوسکتی ہے۔اسے اصول کے طور پر قبول نہیں کیا جاسکتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم ایک دفعہ مجلس میں تشریف فرما تھے اور جنت کے نعماء کا ذکر فرمارہے تھے اور بتا رہے تھے کہ وہاں اس طرح روحانی ترقیات عطا ہوں گی ، یوں علوم کی ترقی ہوگی ، یوں فرشتے نازل ہوں گے اور یہ فلاں فلاں انعامات اللہ تعالیٰ نے میرے لئے مقدر فرمائے ہیں۔معا ایک صحابی کھڑے ہوئے اور کہا یا رسول اللہ دعا فرمائیں کہ جنت میں اللہ تعالیٰ مجھے بھی آپ کے ساتھ رکھے۔آپ نے دعا فرمائی اور فرمایا اللہ تعالی تمہیں بھی ساتھ رکھے گا۔اب خدا جانے اس صحابی کا درجہ کیا تھا۔اس کے اعمال رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اعمال کا لا کھواں، کروڑواں حصہ بھی نہ ہوں گے۔وہ کبھی نہ ایسے اعمال بجالایا ، جو رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم بجالائے اور نہ وہ عبادتیں کی ، جو آپ کرتے تھے۔صرف ایک فقرہ کہا اور اللہ تعالیٰ نے اس کی خواہش کو قبول فرما لیا۔اب کوئی معترض کہہ سکتا ہے کہ یہ تو بڑا آسان کام ہے۔جو اٹھا اس نے یہ فقرہ کہ دیا۔مگر یہ بات نہیں۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس صحابی کی بات سن کر دعا فرمائی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی خواہش کو قبول فرمالیا ہے تو ایک اور صحابی اٹھے اور کہا یا رسول اللہ میں بھی چاہتا ہوں کہ جنت میں آپ کا ساتھ حاصل ہو۔مگر آپ نے فرمایا کہ نہیں۔وہ پہلی بات تھی، جو پوری ہو گئی۔اب اس کی نقل میں بات کرنے والوں کو یہ مقام حاصل نہیں ہو سکتا۔غرض ایسے امور میں جو فیصلہ ہو وہ بطور سبق کے ہوتا ہے، نہ کہ بطور دوامی دستور کے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس حبشی مسلمان کی بات صرف اس لئے مان لی کہ اس سے پہلے کوئی اصل قائم نہ ہوا تھا اور آپ ڈرے کہ ایک مسلمان کا قول بے وقعت نہ ہو۔مگر اس کے یہ معنی نہ تھے کہ آئندہ بھی ایسا فیصلہ تسلیم کیا جایا کرے۔بہر حال حضرت عمرؓ نے ایک مسلمان کی بات کی اتنی قیمت قرار دے دی، جس کی مثال نہیں مل سکتی۔کجا تو وہ زمانہ تھا، کجا آج یہ زمانہ ہے کہ مسلمان کی بات کو مانے کو کوئی تیار نہیں ہوتا۔مسلمان کوئی بات کہے تو لوگ کہتے ہیں یہ مسلمان نے کہی ہے۔معلوم نہیں پوری ہو یا نہ ہو۔میں ایک دفعہ کشمیر گیا۔حضرت خلیفہ اول کا زمانہ تھا۔کشمیر میں لوئیوں کے ٹکڑے رنگ رنگ کر فرش پر بچھانے کے لئے ایک کپڑا بناتے ہیں، جسے گبا کہتے ہیں۔اسلام آباد میں ایک مشہور گبا ساز تھا۔ہم نے بھی اسے ایک گبا بنانے کا آرڈر دیا اور سائز وغیرہ اچھی طرح بتا دیا۔جب ہم سیر کرتے کراتے واپس اس شہر میں آئے تو پتہ کیا کہ گبا تیار ہوا ہے یا نہیں؟ اس نے کہا تیار ہے۔مگر جب سائز میں دیکھا تو 102