تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 100 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 100

خطبہ جمعہ فرمودہ 25 جولائی 1941ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم عید کے دن سینکڑوں وہ لوگ بھی خوش ہوتے ہیں جن کے لئے بظاہر خوشی کی کوئی وجہ نہیں ہوتی۔وہ غریب ہوتے ہیں، اس لئے نہ تو ان کے ہاں کوئی اچھا کھانا پک سکتا ہے اور نہ انہیں نئے کپڑے مل سکتے ہیں۔وہ اسی لئے خوش ہوتے ہیں کہ ان کے ہمسائے خوش ہیں۔اسی طرح کئی طالب علم خوش ہوتے ہیں کہ ان کے ساتھی خوش ہیں۔بہر حال یہ طالب علموں کیلئے خوشی کے ایام ہوتے ہیں۔اگر وہ غور کریں تو انہیں معلوم ہو کہ خوشی کیا چیز ہے؟ حقیقی خوشی ہی کامیابی کا موجب ہو سکتی ہے۔مصنوعی خوشیاں بسا اوقات دوسرے کے دل میں رقت پیدا کر دیتی ہیں۔کہتے ہیں کسی بیوہ عورت کا ایک ہی بچہ تھا۔جو دودھ پیتا تھا۔مگر ایسی عمرکو پہنچ چکا تھا جب بچہ کچھ کچھ بولنے لگتا اور حرکت کرنے اور چلنے پھرنے لگتا ہے اور اسکا دودھ چھڑانے لگتے ہیں۔اس کی ماں بیمار تھی اور رات کو مر گئی۔جب صبح دروازہ نہ کھلا تو ہمسائے آئے اور جب دروازہ کھولاتو دیکھا کہ ماں مری پڑی ہے اور بچہ کبھی اس کے پستان منہ میں ڈالتا ہے، کبھی اس کے ماتھے پر پیار سے تھپڑ مارتا ہے اور جب وہ اس پر بھی نہیں بولتی تو کھلکھلا کر ہنے لگتا ہے۔وہ سمجھتا ہے کہ میری ماں میرے ساتھ مذاق کرتی ہے، اس لئے نہیں بولتی اور میرے ہننے سے وہ بھی ہنس پڑے گی۔لوگ اگر صرف اس ماں کو مردہ دیکھتے تو شاید ان کو اتنا رونا نہ آتا، جتنا کہ اس حالت میں اس کے بچہ کو ہنستا دیکھ کر انہیں آیا ہوگا۔تو کئی خوشیاں ایسی ہوتی ہیں جو دراصل رونے کا موجب ہوتی ہیں۔وہ جہالت نادانی اور نا واقفی کی خوشیاں ہوتی ہیں۔ان میں حصہ لینے والا جانتا نہیں کہ دنیا مجھ پر رو رہی ہے اور میں مصیبتوں میں مبتلا ہوں۔آج مسلمانوں کی خوشیاں دیکھ لو۔کیا آج مسلمان خوش نہیں ہوتے ؟ کیا آج مسلمان قہقہے نہیں لگاتے ؟ وہ خوش بھی ہوتے ہیں، قہقہے بھی لگاتے ہیں اور ہر وہ کام جو کامیاب قوموں کو زیب دیتا ہے، کرتے ہیں۔وہ میلوں اور تماشوں میں بھی جاتے ہیں۔ان سب جلسوں وغیرہ میں جو خوشیوں کے اظہار کیلئے ہوتے ہیں،شامل ہوتے ہیں۔وہ شعر و شاعری کا مذاق بھی رکھتے ہیں۔شعر کہتے اور ایک دوسرے کے شعر سن کر سر دھنتے اور داد دیتے ہیں۔خوب قہقہے لگاتے ہیں بلکہ ہندؤں ،سکھوں اور عیسائیوں سے زیادہ ہنستے ہیں اور ہنستے ہوئے ان کی باچھیں ان قوموں کے لوگوں کی نسبت زیادہ کھلتی ہیں، جو حکمران ہیں۔مگر کیا مسلمانوں کی یہ نفسی ، یہ قہقہے اور یہ مسکراہٹیں حقیقی خوشی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں؟ کہاں وہ زمانہ تھا کہ مسلمانوں کا سر دین اور دنیا دونوں لحاظ سے سب سے اونچا تھا۔ایک مسلمان کے قول کو سب سے زیادہ معتبر سمجھا جاتا تھا۔دوسرے بادشاہوں کی بات پر اتنا اعتبار نہ کیا جاتا تھا۔جتنا ایک عامی مسلمان کی مسلمان اگر کوئی بات کہہ دیتا تو لوگ سمجھتے تھے ، یہ ضرور ہو کر رہے گی۔100