تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 99 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 99

- تحریک ہو یہ ایک المی تحریک جلد دوم خطبہ جمعہ فرمودہ 25 جولائی 1941ء تمہاری خوشبو سارے ملک میں پھیل جائے خطبہ جمعہ فرمودہ 25 جولائی 1941ء سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔ایک ہفتہ تک قادیان کے سکولوں اور کالجوں میں چھٹیاں ہونے والی ہیں۔کل اسی تقریب پر میں تحریک جدید کے بورڈنگ ہاؤس میں گیا تھا۔مگر تحریک جدید کے طالب علم اس تعداد کے مقابلہ میں جو قادیان کے مدارس میں تعلیم پاتے ہیں، بہت کم ہیں۔اس لئے وہاں میں طالب علموں اور استادوں کے ایک حصہ کو ہی مخاطب کر سکا تھا۔اس وقت قادیان کی مختلف درسگاہوں میں قریباً ڈیڑھ ہزار لٹر کے یا اس سے کچھ زیادہ تعلیم پاتے ہیں۔اسی طرح پانچ چھ سو یا اس سے کچھ زیادہ لڑکیاں پڑھتی ہیں۔گویا قریباً دو ہزار طالب علم پڑھتے ہیں۔چھٹیاں طالب علموں کیلئے کچھ ایسی خوش کن ہوتی ہیں کہ آپ ہی آپ دل میں مسرت کے جذبات کھیلنے لگتے ہیں۔یہاں کثیر حصہ ایسے طالب علموں کا ہے جن کے ماں باپ دوسرے علاقوں کے رہنے والے ہیں۔ماں باپ کی محبت اور ان سے ملنے کی خواہش کی وجہ سے ان کو چھٹیوں کا انتظار رہتا ہے اور جب چھٹیاں آتی ہیں تو ان کے دل خوشی سے بھر جاتے ہیں۔ایک اور حصہ طالب علموں کا وہ ہے۔جن کے ماں باپ قادیان میں ہی رہتے ہیں۔مگر ان کے دل بھی چھٹیوں کی وجہ سے خوشی سے کچھ کم نہیں بھرتے۔وہ بھی اپنے دلوں میں ایسی ہی خوشی محسوس کرتے ہیں جتنی وہ جنہوں نے ماں باپ کی ملاقات کیلئے واپس جانا ہوتا۔ایسے طالب علموں میں سے کچھ تو اس لئے خوش ہوتے ہیں کہ پڑھائی سے فراغت ہو جائے گی اور خوب کھیلیں گے۔کچھ اس لئے خوش ہوتے ہیں کہ جب دوسرے بچے باہر جائیں گے تو ہمارے ماں باپ بھی ہمیں کہیں باہر بھیج دیں گے۔چونکہ چھٹیوں کے موقعہ پر طالب علموں کیلئے ریلوے کنسیشن وغیرہ ملتے ہیں،اس لئے ایسے بچوں کو بھی ان کے ماں باپ اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کے پاس کہیں باہر بھیج دیتے ہیں تا چھٹیوں میں سیر کر آئیں۔پھر کچھ طالب علم ایسے ہوتے ہیں جنہوں نے نا تو پڑھائی سے غافل ہونا ہوتا ہے اور نہ انہیں باہر جانے کی کوئی امید ہوتی ہے۔مگر وہ چھٹی کے لفظ سے ہی خوش ہوتے ہیں جیسے 99