تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 89 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 89

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم خطبہ جمعہ فرمودہ 20 جون 1941 ء پس میں ان تمام دوستوں کو جنہوں نے تحریک جدید کا چندہ ادا کرنے کا وعدہ کیا ہوا ہے، توجہ دلاتا ہوں کہ اگر وہ اپنے چندہ کومٹی میں ادا نہیں کر سکے تو اب اس کی ادائیگی کا فکر کریں۔کیونکہ انسان کی نیکی اور تقویٰ کا معیار یہ ہوتا ہے کہ جب اس سے کوئی غفلت یا ستی ہو جائے یا بعض مجبوریوں کی وجہ سے کسی نیک تحریک میں جلد حصہ نہ لے سکے تو وہ نیکی کو اور بڑھا کر کرتا ہے تا کہ اس کی غلطی اور ستی کا کفارہ ہو جائے۔دنیا میں کئی مجبوریاں بھی گناہ کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں اور بسا اوقات دل پر گناہوں کا زنگ لگ جانے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ظاہر میں مجبوریاں پیدا کر دیتا ہے تا وہ ثواب کے اعلیٰ مقام کو حاصل نہ کر سکے۔پس وہ دوست جو مئی تک اپنے وعدے کو پورا نہیں کر سکے ، انہیں کوشش کرنی چاہئے کہ وہ اپنے وعدوں کو جون یا جولائی میں پورا کر دیں تاکہ ان کی پچھلی غفلت کا کفارہ ہو سکے۔اگر کوئی سمجھتا ہے کہ وہ اکتوبر میں اپنا چندہ ادا کر سکتا ہے لیکن اس وجہ سے کہ وہ مئی میں چندہ ادا کر کے سابقون میں شامل نہ ہو سکا۔اب کفارہ کے طور پر اگست میں ادا کر دیتا ہے تو وہ بھی اللہ تعالیٰ کے حضور ویسا ہی ثواب کا مستحق ہے، جیسے مئی میں ادا کرنے والے اور اگر کوئی شخص جولائی میں چندہ ادا کرنے کی طاقت رکھتا ہے لیکن وہ اپنی غفلت کے کفارہ کے طور پر اور اپنے نفس پر تکلیف برداشت کر کے جون میں چندہ ادا کر دیتا ہے تو وہ بھی اللہ تعالیٰ کے حضور ویسا ہی سمجھا جائے گا، جیسے مئی میں ادا کرنے والے۔کیونکہ جب کسی سے غفلت ہو جائے تو بعد میں خواہ مقدار کے لحاظ سے زیادہ قربانی کرے اور خواہ تکلیف اٹھا کر میعاد سے قبل اپنے وعدے کو پورا کر دے۔دونوں صورتوں میں اس کی کوتاہی کا کفارہ ہو جاتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا مستحق بن جاتا ہے۔مجھے افسوس ہے کہ بعض لوگ یہ خیال کر لیتے ہیں کہ چونکہ اب مقررہ وقت گزر گیا ہے۔اس لئے جلدی کی کیا ضرورت ہے؟ ایسے لوگ وقت کے گزر جانے کی وجہ سے اور بھی سست ہو جاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اب انہیں جلدی کی کوئی ضرورت نہیں۔مگر میرے نزدیک اس سے زیادہ بدقسمتی کی اور کوئی بات نہیں ہو سکتی کہ انسان پہلے تو کسی مجبوری کی وجہ سے نیکی سے محروم رہے اور بعد میں بے ایمانی کی وجہ سے نیک کام میں حصہ نہ لے سکے۔حالانکہ جو لوگ مجبوری کی وجہ سے کسی نیک کام میں شریک ہونے سے ایک وقت محروم رہتے ہیں۔وہ بعد میں اگر اپنی کوتاہی کا ازالہ کر دیں تو بہت کچھ ثواب حاصل کر لیتے ہیں لیکن اپنی کوتا ہی کا ازالہ نہ کرنے والے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے حصہ نہیں لے سکتے۔مثلاً وہ لوگ جنہوں نے مئی میں چندہ ادا کیا ہے، بالکل ممکن ہے ان میں کوئی شخص ایسا ہو جو دس ہزار روپیہ دینے کی تو فیق رکھتا ہو مگر اس نے دیئے صرف دس روپے ہوں۔اب ہمارے نزدیک تو وہ مئی میں چندہ ادا کرنے کی وجہ سے 89