تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 772
تحریک جدید- ایک البی تحریک۔۔۔جلد دوم - خطبہ جمعہ فرمود و 02 مئی 1947 ء انسان نمازیں پڑھ سکتا ہے اور سلسلے کے کام کر سکتا ہے۔آٹھ نہ ہی ، سات سہی۔سات نہ ہی ، چھ سہی۔چھ نہ سہی، پانچ سہی۔پانچ نہ سہی، چار سہی۔چار نہ سہی، تین سہی۔کم از کم تین گھنٹے تو ہر انسان کے پاس فارغ ہو سکتے ہیں، جن میں سے وہ ڈیڑھ گھنٹے میں نمازیں ادا کر سکتا ہے اور ڈیڑھ گھنٹہ روزانہ وہ سلسلہ کے کاموں میں صرف کر سکتا ہے۔پس جماعت کے لئے یہ ضروری امر ہے کہ اس کے اثر رکھنے والے افراد دین کی خدمت کے لئے وقت نکالیں۔اور ہر احمدی کو یہ امر ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ دین کی خدمت سے ہی اصل عزت حاصل ہوتی ہے۔اگر زیادہ کمانے والے لوگ اس طرف متوجہ نہ ہوں تو اس کے دو برے نتائج پیدا ہوں گے۔ایک یہ کہ کمزور لوگ دین کی خدمت سے کوتاہی اور سستی اختیار کر لیں گے اور دوسرے یہ کہ ان کا اپنا ایمان ضائع ہو جائے گا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے چندوں کو ان کے منہ پر مارے گا اور فرمائے گا کہ ہم نے صرف چندے دینے کے متعلق حکم نہیں دیا تھا۔بلکہ ہم نے تو کہا تھا مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ کہ ہم نے جو کچھ تم کو دیا ہے، اس سے تم خرچ کرو۔ہم نے صرف روپے کے متعلق تو نہیں کہا تھا۔کیا ہم نے تم کو وقت نہیں دیا تھا ؟ کیا ہم نے تمہیں ہاتھ پاؤں نہیں دیئے تھے ؟ کیا ہم نے تمہیں کان ، ناک اور آنکھیں نہیں دی تھیں؟ کیا ہم نے تمہیں عقل اور فراست نہیں دی تھیں؟ کیا ہم نے تمہیں علم نہیں دیا تھا ؟ تمہارا فرض تھا کہ ان سب چیزوں میں سے ہمارا حصہ ادا کرتے۔جو شخص صرف چندہ دے کر مطمئن ہو جاتا ہے، اس کی مثال ایسی ہی ہے، جیسے کسی شخص نے دوسرے آدمی سے دس روپے قرض لئے ہوں اور وہ ان میں سے ایک روپیہ ادا کر کے سمجھ لے کہ میں نے تمام قرضہ ادا کر دیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں بہت سی نعمتیں عطا فرمائی ہیں ، ان میں سے صرف ایک نعمت کا حق ادا کر کے ہم عہدہ برا نہیں ہو سکتے۔بلکہ ویسے ہی مجرم ہیں ، جیسے دس روپیہ میں سے ایک رو پیدا دا کر کے باقی نو روپے ادا نہ کرنے والا مجرم ہے۔پس ہر ایک نعمت ، جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں عطا فرمائی ہے، اس میں سے اللہ تعالیٰ کا حصہ ادا کرنا ضروری ہے۔اگر کوئی شخص خدمت دین سے جی چراتا ہے تو وہ لاکھ نہیں، کروڑ روپیہ ہی چندہ کیوں نہ دے، ہم اس کے متعلق یہی کہیں گے کہ وہ ایمان کی حقیقی لذت سے محروم ہے۔اگر روپیہ ہی اصل چیز ہوتی تو اللہ تعالیٰ سب نبیوں کو فرما تا کہ تم تبلیغ کرنا چھوڑ دو، صرف چندہ دے دیا کرو۔جو شخص صرف چندے کو ہی کافی سمجھتا ہے، گویا دوسرے لفظوں میں وہ یہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے انبیا اور مامورین اور خلفاء تو ادنی کام کرتے ہیں، اصل کام وہی کر رہا ہے۔اگر چندے دینا ہی سب سے بڑا کام ہوتا تو اللہ 855