تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 773 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 773

خطبہ جمعہ فرمودہ 02 مئی 1947ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم تعالی انبیاء اور خلفاء کو بھی صرف چندے دینے کا ہی حکم دیتا۔اور اگر صرف چندے دینا ہی ضروری ہوتا تو جماعت احمد یہ اس طریق کار کو اختیار کرتی کہ ہندوؤں اور عیسائیوں کو دین کے کاموں پر لگا دیا جاتا اور خود احمدی زیادہ روپیہ کمانے والے کاموں میں لگ جاتے۔پریزیڈنٹ کا کام ایک احمدی کی بجائے ملا واصل کرتا اور سیکرٹری کا کام پکٹ انگریز کرتا اور تعلیم و تربیت کا کام سند رسنگھ کرتا۔اور جب کوئی پوچھتا کہ جماعت کا پریزیڈنٹ کون ہے؟ تو کہا جا تا لالہ ملاوائل۔اور جب پوچھا جا تا سیکرٹری کون ہے؟ تو کہا جاتا پکٹ۔اور جب پوچھا جاتا سیکرٹری تعلیم وتربیت کون ہے؟ تو کہا جاتا سندر سنگھ۔پوچھنے والا دریافت کرتا کہ یہ کیا بات ہے کہ جماعت احمدیہ کے عہدیدار غیر مسلم ہیں؟ تو اس کو یہ جواب دیا جاتا کہ جماعت کے مفید وجود زیادہ کمائی کرنے والے کاموں میں لگے ہوئے ہیں اور وہ فضول کام کر کے اپنا وقت ضائع کرنا نہیں چاہتے۔کیا تم میں سے کوئی بھی معقول انسان اس طریق کو پسند کرتا ہے؟ اگر نہیں تو سمجھ لو کہ خواہ کوئی کتنا بڑا مالدار ہے اور خواہ کوئی کتنا بڑا تاجر ہے اور خواہ کوئی کتنا بڑا افسر ہے ، اگر وہ دین کے کاموں میں دلچسپی نہیں لیتا تو خواہ اس کے چندے لاکھوں تک ہی کیوں نہ ہوں؟ ہم یہی کہیں گے کہ اس کے دل میں ایمان نہیں ہے۔اگر اس کے دل میں ایمان ہوتا تو وہ سب سے بڑی عزت خدمت دین کو سمجھتا۔اور جو شخص صرف روپے سے ہی خدمت کرنے کو اصل خدمت سمجھتا ہے ، وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے خلفاء اور تابعین کی ہتک کرتا ہے کہ نعوذ باللہ وہ ذلیل کام کرتے تھے اور یہ اصل کام کر رہا ہے۔اس لئے ایسے شخص کا روپیہ بھی برکت کا موجب نہیں بن سکتا۔پس اب جبکہ جماعت ایک نازک دور میں سے گزر رہی ہے، ہر احمدی کا فرض ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی تمام عطا کردہ نعمتوں کا حصہ ادا کرے۔اور ہر فرد خدمت دین کے لئے زیادہ سے زیادہ وقت نکالے۔اور ہر فر دمقامی انجمنوں کے ساتھ پورا پورا تعاون کرے اور ان کے کاموں میں پورے طور پر دلچسپی لے۔اور اپنے وقت کا کچھ نہ کچھ حصہ مقامی جماعت کی اصلاح و تربیت اور مضبوطی میں خرچ کرے۔میں نے خدام الاحمدیہ کو بھی اسی لئے قائم کیا تھا کہ وہ نو جوانوں سے کچھ نہ کچھ وقت خدمت دین کے لئے لیا کریں اور اس وقت ان سے کوئی مفید کام کروایا جائے۔اسی طرح جماعت کے ہر فرد کو اپنے اوقات میں سے کچھ وقت دین کی خدمت کے لئے دینا چاہیے کیونکہ اس کے بغیر ایمان کا امتحان نہیں ہوتا۔پس جماعت کو اس نازک ترین دور میں اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے اور سلسلہ کی خدمت کے لئے اور سلسلہ کی عظمت کو قائم کرنے کے لئے حتی الامکان اپنے اوقات صرف کرنے چاہیں۔اس 856