تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 733
تحریک جدید- ایک البی تحر یک۔۔۔جلد دوم اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 26 اپریل 1946ء اب وقت ہے کہ تم دنیاداری کی روح کو بالکل کچل دو خطبہ جمعہ فرمودہ 26 اپریل 1946ء جب قوموں میں تنزل واقعہ ہو جاتا ہے، جب قوموں پر جہالت غالب آجاتی ہے، جب قوموں کے دلوں سے دین کی محبت چلی جاتی ہے تو اس وقت ان کی حالت اپنی پہلی حالت سے بالکل مختلف ہو جاتی ہے اور کامیابی کے سامان اور کامیابی کے ذرائع دور سے دور تر ہوتے چلے جاتے ہیں۔جیسے مٹھی میں سے ریت نکلتی چلی جاتی ہے، اسی طرح با مراد ہونا اور مظفر منصور ہونا، ان کے ہاتھوں سے نکلتا چلا جاتا ہے۔اور جب خدا تعالیٰ کسی قوم کی آنکھوں کو کھول دیتا ہے، جب وہ اس کے حوصلوں کو بلند کر دیتا ہے اور جب وہ اس کے ایمان کو مضبوط کر دیتا ہے تو اس قوم میں صحیح قربانی او صیح قسم کا ایثار پیدا ہوتا چلا جاتا ہے اور وہ دن بدن اپنے کاموں میں ترقی کرتی جاتی ہے۔یہ ایک قانون ہے، جو ہمیشہ سے چلا آیا ہے اور ہمیشہ تک جاری رہے گا۔خدا تعالیٰ کی سنتیں کبھی بدلا نہیں کرتیں اور خدا تعالیٰ جس امر کا فیصلہ اپنے قانون قدرت کے مطابق کرتا ہے، وہ آخر تک اسی طرح چلتا چلا جاتا ہے۔" جب کوئی قوم دنیا کی طرف جاتی ہے تو اگر اس کے اندر دین کی بنیاد ہوتی ہے تو خدا تعالیٰ اس سے دنیا بھی چھین لیتا ہے۔یہ کبھی نہیں ہوسکتا کہ ایک قوم بچے دین کی خدمت کے لئے مقرر کی گئی ہو اور وہ اپنے فرائض میں سستی کرے اور دین کی بجائے دنیا کی طرف مائل ہو جائے تو پھر خدا تعالیٰ اس کے پاس دنیا بھی رہنے دے۔جو اقوام بے دین ہیں اور جن کو روحانیت کے ساتھ کوئی وابستگی نہیں ، وہ بے شک دنیوی ذرائع سے ترقی کرتی چلی جاتی ہیں۔لیکن جن قوموں کو خدا تعالیٰ نے دین کی خدمت سپرد کی ہوتی ہے، وہ کبھی دنیوی ذرائع سے ترقی نہیں کرتیں۔وہ جب بھی دین کو چھوڑ کر دنیا کی طرف مائل ہو جاتی ہیں ، خدا تعالیٰ ان کی دنیا بھی چھین لیتا ہے“۔وو اس وقت احمد یہ جماعت کو اللہ تعالیٰ نے ایک بچے مذہب کا حامل بنایا ہے۔اگر ہماری جماعت کے افراد دیانتداری اور اخلاص کے ساتھ دین کے حامل نہیں ہوں گے تو خدا تعالیٰ احمدیوں کے ساتھ بھی وہی سلوک کرے گا، جو ایک بادشاہ اپنے باغیوں کے ساتھ کیا کرتا ہے۔میں متواتر اور بار بار 733