تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 55 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 55

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرموده 29 نومبر 1940ء چندے پر ایک پیسہ بھی بڑھاتا ہے تو خدا تعالیٰ کے نزدیک وہ اضافہ ہی ہے۔اس لئے اپنے چندے بڑھانے میں سستی سے کام نہیں لینا چاہئے۔بلکہ ہر شخص کو کوشش کرنی چاہئے کہ اس کا چندہ پہلے سالوں سے بڑھ کر ر ہے۔خدا تعالیٰ کو اس سے غرض نہیں کہ کسی کا اضافہ تھوڑا ہے یا بہت بلکہ جو بھی اپنے چندے میں اضافہ کرتا ہے خواہ وہ کیسا ہی قلیل کیوں نہ ہو، اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ سابقون کے زمرہ میں لکھا جاتا ہے۔اور جبکہ یہ امتیاز اور فخر ایک پیسہ یا دھیلہ کی زیادتی سے بھی تمہیں حاصل ہو سکتا ہے تو کیسا نادان وہ شخص ہے جو اتنا اضافہ بھی نہ کرے اور اس طرح سابقون میں شامل ہونے سے محروم رہے؟ وہ شخص جو پانچ یا دس روپے چندہ دیتا ہے اس کے لئے ایک پیسہ کی زیادتی ایسی نہیں ہو سکتی جس کے متعلق وہ یہ کہہ سکے کہ وہ یہ اضافہ نہیں کر سکتا۔غربا بھی اگر چاہیں تو ایک پیسہ دے کر سابقون میں شامل ہو سکتے ہیں۔پس جماعت کے ہر دوست کو کوشش کرنی چاہئے کہ وہ تحریک جدید میں حصہ لے اور کوشش کرنی چاہئے کہ ہر سال کا چندہ پہلے سال سے بڑھ کر ہو۔خواہ ایک پیسہ ہی کیوں نہ اضافہ کیا جائے تا کہ ہماری جماعت میں کوئی بھی شخص ایسا نہ رہے جو سباق سے محروم ہو۔وہ غر با جو پانچ روپیہ چندہ دینے کی بھی طاقت نہیں رکھتے ان کے متعلق میں نے بتایا ہے کہ اگر ان کا دل دردمند ہے اور وہ یہ تڑپ رکھتے ہیں کہ کاش ان کے پاس روپیہ ہوتا اور وہ اس میں شریک ہو سکتے تو وہ خدا تعالیٰ کے حضور چندہ دہندگان میں ہی شامل ہیں۔بعض لوگ کہا کرتے ہیں کہ ہم سے ایک روپیہ لے لیا جائے اور ہمیں اس تحریک میں شامل ہونے کی اجازت دی جائے، میں ان سے کہتا ہوں کہ اگر ان کے دل میں واقعہ میں یہ تڑپ موجود ہے تو خدا تعالیٰ کے نزدیک وہ پہلے ہی اس تحریک میں شامل ہیں۔انہیں چاہتے کہ وہ یہ روپیہ کسی اور نیک کام میں صرف کر دیں اور اپنے متعلق اللہ تعالیٰ سے یہ امید رکھیں کہ وہ انہیں ایسا ہی ثواب دے گا جیسے ان لوگوں کو دے گا جنہوں نے اس تحریک میں حصہ لیا۔اگر بالفرض وہ ایک روپیہ دے کر اس تحریک میں شامل بھی ہو جائیں تو انہیں تو اب تو ایک روپیہ کا ہی ملے گا لیکن اگر وہ غربت کی وجہ سے اس تحریک میں حصہ نہیں لیں گے مگر ان کے دل تڑپ رہے ہوں گے کہ کاش! ان کے پاس روپیہ ہوتا اور وہ بھی اپنے دوسرے بھائیوں کی طرح اس میں حصہ لیتے تو اس کے بدلہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے علی قدر مراتب انہیں ویسا ہی ثواب ملے گا جیسے تحریک جدید میں اور حصہ لینے والوں کو ملے گا۔اور مزید برآں وہ اس ایک روپیہ کو نیکی کے کسی اور کام میں صرف کر کے اللہ تعالیٰ سے اور زیادہ ثواب حاصل کر سکیں گے۔پس انہیں اس تحریک سے اپنے آپ کو مستقٹی سمجھنا چاہئے۔باقی ہر ایک دوست کو 55