تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 591 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 591

خطبہ جمعہ فرمودہ 07 ستمبر 1945ء تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم قربانی کے بیج کو جس نے پھل دینا تھا، بہا کر لے گیا ہے۔ایسے آدمی کو اللہ تعالیٰ کے حضور بہت توبہ استغفار کرنا چاہئے اور بہت دعائیں کرنی چاہئیں تا اللہ تعالیٰ اسے معاف فرمائے اور اسے مزید قربانیوں کی تو فیق عطا کرے۔جس طرح تین ماہ میں ایک دھیلہ چندہ نے بڑھتے بڑھتے موجودہ مالی قربانیوں کی صورت اختیار کر لی ہے، اسی طرح جانی قربانی کا وقت بھی آنے والا ہے۔اور وہ وقت آنے والا ہے جبکہ دشمنان اسلام تمہارے سینوں میں خنجر گاڑ دیں گے۔کیونکہ یہ ہو نہیں سکتا کہ تمہارے دشمن تمہارے متعلق یہ جان لیں کہ تم ان کو کھا جانے والے ہو اور وہ تم کو قتل نہ کریں۔ابھی تک تو دنیا تم کو ایک کھلونا بجھتی ہے۔اس سے زیادہ تمہیں کوئی وقعت نہیں دیتی۔اگر کسی کے جسم پر مچھر بیٹھے تو وہ آہستہ سے اس کو اڑانے کے لئے ہاتھ ہلا دیتا ہے اور اس کی طرف توجہ بھی نہیں کرتا لیکن جس شخص کے گھر میں چور گھس آئے ، کیا وہ اس کا اسی طرح مقابلہ کرتا ہے، جس طرح مچھر کو اپنے جسم سے ہٹاتا ہے؟ نہیں وہ اس کا پوری طرح مقابلہ کرتا ہے اور ہر ممکن کوشش کرتا ہے کہ اس کو پکڑے اور چور باوجود اس بات کے جاننے کے کہ گھر والاحق پر ہے اور میں نا حق پر ہوں اور میں ظالم ہوں اور گھر والا مظلوم ہے، پھر بھی گھر والوں کا مقابلہ کرتا بلکہ کوشش کرتا ہے کہ ان کو زخمی کر کے بھاگ جائے۔اسی طرح کفر بھی یہ خیال نہیں کرتا کہ وہ باطل پر ہے۔بلکہ اپنے آپ کو حق پر ہی سمجھتا ہے اور ایمان کا سختی سے مقابلہ کرتا ہے۔جس دن کفر کو یہ معلوم ہو گیا کہ تم اسے دنیا سے مٹا دینے والے ہو، وہ یقینا سختی سے تمہارا مقابلہ کرے گا اور تمہاری گردنوں میں تمہارے سینوں میں تمہارے جگر میں خنجر گاڑ دے گا۔اور کفر اپنا سارا زور لگائے گا کہ اسلام کو قتل کر دے اور اسلامی عمارت کو منہدم کر دے۔گوا بھی وہ دن دور ہیں لیکن آہستہ آہستہ قریب آتے جاتے ہیں۔اب بھی کئی ممالک ایسے ہیں، جس میں احمدیت کا داخلہ بند ہے اور ہمارے مبلغین کو وہاں جانے سے روکا جاتا ہے۔غرض مالی لحاظ سے تو جماعت کئی سال سے قربانیاں کرتی آرہی ہے۔گوا علے میعار تک ابھی تک نہیں پہنچی مگر جانی قربانی کے لحاظ سے ابھی ابتداء نہیں ہوئی۔البتہ وقف زندگی کے مطالبہ کے ذریعہ بنیاد کا ایک نشان لگا دیا گیا ہے۔جیسے بنیاد کھودتے وقت کسی سے ٹک لگایا جاتا ہے۔پھر بنیاد کھودی جاتی ہے۔جب بنیاد کی کھدائی ہو جاتی ہے تو اس پر دیوار میں کھڑی کرتے ہیں۔جب دیوار میں بن جاتی ہیں تو ان دیواروں پر چھتیں ڈالی جاتی ہیں۔اس کے بعد پلستر کیا جاتا ہے، دروازے اور کواڑ لگائے جاتے ہیں تب کہیں جا کر مکان تیار ہوتا ہے۔جس طرح مکان آہستہ آہستہ کچھ عرصہ کے بعد جا کر تیار ہوتا ہے، اس طرح جان دینے کی عمارت کے تیار ہونے میں کچھ دیر باقی ہے۔کوئی عمارت بھی ایک دن میں تیار نہیں 591