تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 511 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 511

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم اقتباس از خطبه جمعه فرمودہ 05 جنوری 1945ء قانون بنا دے کہ ان میں سے کوئی مرے گا نہیں اور بوڑھا بھی نہیں ہوگا۔اگر اللہ تعالیٰ کا کوئی ایسا قانون ہو تب دس ہزار سال کے بعد ہمیں پورے مبلغ مل سکتے ہیں۔اور دنیا کی کوئی قوم دس ہزار سال تک زندہ نہیں رہ سکتی۔کسی قوم کی زندگی تین سو سال سے آگے نہیں بڑھ سکتی۔اس عرصہ میں وہ یا تو غالب آکر دوسری طرف متوجہ ہو جاتی ہے اور یا پھر مٹ جاتی ہے اور اس کا نام ونشان بھی باقی نہیں رہتا۔اس کے بعد کہیں کہیں صوفیاء وغیر ہ رہ جاتے ہیں، جو اپنی اپنی جگہ اور اپنے اپنے حلقہ میں اپنے سلسلہ کو جاری رکھتے ہیں۔ور نہ اس مذہب کی طرف منسوب ہونے والے تو باقی رہتے ہیں لیکن مذہب باقی نہیں رہتا۔پس کوئی ایسی سکیم کہ دس ہزار سال میں قومی ترقی کے سامان کئے جائیں گے، کسی پاگل کے نزدیک ہی قابل توجہ ہو سکتی ہے۔بلکہ ایسی بات کو تو پاگل بھی نہیں مان سکتا۔اور جو ایسی بات پر یقین رکھتا ہے اس سے زیادہ پاگل کوئی نہیں ہو سکتا۔یہ ایک ایسی واضح بات ہے کہ جو دنیا کی واضح ترین باتوں میں سے ہے۔مگر میں حیران ہوا کرتا ہوں کہ ہماری جماعت میں ہزاروں اعلی تعلیم یافتہ بی۔اے اور ایم۔اے لوگ ہیں، ان کی سمجھ میں یہ واضح بات کیوں نہیں آتی کہ ہماری جماعت تبلیغ کے فریضہ کو کس طرح ادا کرے گی؟ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ اس کام کے لئے آسمان سے فرشتے اتریں گے؟ کیا پہلے انبیاء کے زمانہ میں فرشتوں نے آسمان سے اتر کر یہ کام کیا تھا ، جواب وہ اتر کر کریں گے؟ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں فرشتے یہ کام کرنے کے لیے نہیں اترے تو اب کیا اتریں گے۔حقیقت یہی ہے کہ پہلے بھی آدمیوں نے ہی یہ کام کیا تھا اور اب بھی آدمی ہی کریں گے۔پہلے بھی بعد میں آنے والوں کو تعلیم آدمیوں نے ہی دی تھی اور اب بھی آدمی ہی دیں گے۔اور ایک انسان اتنے ہی لوگوں کو تعلیم دے سکتا ہے اور تبلیغ کر سکتا ہے، جتنے لوگوں کو تعلیم دینے اور تبلیغ کرنے کی طاقت اس کے اندر ہے۔یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک انسان لاکھوں کی تعلیم و تبلیغ کا بوجھ اٹھا سکے۔لیکن ہمارے پاس مبلغوں کی تعداد بہت ہی کم ہے۔دنیا کی دوارب کی آبادی کے لئے اگر دس ہزار مبلغ بھی ہوں تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ دولاکھ افراد کے لئے ایک مبلغ۔اور یہ تعداد بالکل ناکافی ہے۔قادیان کی آبادی دس ہزار ہے، اگر اس دس ہزار آبادی کے لئے ایک آدمی ہو تو کیا اسے کافی سمجھا جاسکتا ہے اور کام چل سکتا ہے؟ ہر گز نہیں۔لیکن ہمارے پاس تو ابھی اتنے بھی نہیں ہیں۔ایک آدمی کے کام کا وقت 25 سال عام طور پر ہوتا ہے یا اگر 25 سال کی عمر میں تعلیم ختم کر لی جائے تو تمیں سال کام کا زمانہ سمجھا جا سکتا ہے۔مگر چونکہ بعض کام کرنے والے اتنا عرصہ کام کرنے سے پہلے ہی فوت ہو جاتے ہیں، اس لئے کام کرنے کی اوسط میں سال سمجھنی 511