تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 378 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 378

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 26 مئی 1944ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد دوم تو ہم اس کے متعلق بھی یہی سمجھیں گے کہ وہ اپنے وقف میں ثابت قدم نہیں۔اسے صاف طور پر کہہ دینا چاہیے کہ تم میرے ماں باپ نہیں ہو۔جب تم نے مجھے وقف کر دیا، جب تم نے مجھے سلسلہ کے سپر د کر دیا تو اب صرف میری شخصیت کا سوال رہ سکتا ہے۔ورنہ جہاں تک کام کا تعلق ہے، جہاں تک تعلیم کا تعلق ہے، جہاں تک تقرر کا تعلق ہے، میرا باپ بھی سلسلہ ہے ، میری ماں بھی سلسلہ ہے، میری بہن بھی سلسلہ ہے، اور میرا بھائی بھی سلسلہ ہے“۔پس میں جماعت کے دوستوں کو ایک بار پھر ہوشیار کر دیتا ہوں کہ وہ وقف کی حقیقت سمجھیں۔ممکن ہے وہ کہہ دیں کہ ایسی باتوں کا نتیجہ یہ ہو گا کہ لوگ قربانی کے لئے آگے نہیں آئیں گے۔مگر میں کہتا ہوں ، وہ لوگ جو اپنی ذمہ داریوں کو نہیں سمجھتے ، وہ لوگ جو وقف کی حقیقت سے غافل ہیں، وہ لوگ جو نام پیش کرتے وقت تو سب سے آگے آجاتے ہیں مگر جب قربانیوں کے لئے بلایا جاتا ہے تو ان کا قدم پیچھے ہٹ جاتا ہے، ایسے لوگوں کی مجھے قطعا ضرورت نہیں۔وہ ایک شکست خوردہ اور ماری ہوئی قوم ہیں۔مجھے ایسے لوگوں کا کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا۔اگر جماعت میں ایسے ہی لوگ ہیں، جو اپنے نام پیش کرنے کے لئے تو تیار ہو جاتے ہیں لیکن اگر سلسلہ ان سے کام لیتا ہے یا سلسلہ ان کو ڈانٹتا ہے تو وہ اپنے قدم پیچھے ہٹا لیتے ہیں تو میں ایسے لوگوں سے کہتا ہوں تمھیں سات سلام ، تم مردہ ہو تم کسی کام کے اہل نہیں تم اپنے گھر بیٹھو، میں اپنے گھر خوش ہوں۔وہی جماعتیں دنیا میں کام کرسکتی ہیں، جو اپنی ذمہ داریوں کو بجھتی ہیں اور اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی وجہ سے وہ جان دینے کے لئے بھی تیار رہتی ہیں۔(مطبوعہ الفضل 31 مئی 1944 ء ) 378