تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 13
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم خطبہ جمعہ فرمود و 05 اپریل 1940ء اس کے علاوہ وعدوں کی ادائیگی میں بھی کسی قدرستی پائی جاتی ہے۔ہر سال کچھ نہ کچھ وعدے ادا ہونے سے رہ جاتے ہیں۔حالانکہ یہ چندہ طوعی ہے، وعدہ کے بعد اس کے ادا نہ ہونے کے کوئی معنی ہی نہیں۔سوائے اس کے کہ کسی شخص کے حالات ایسے بدل جائیں کہ وہ ادا کرنے کے قابل نہ رہے۔ایسا شخص تو معذور ہے اور نادہند نہیں۔ایسا شخص اگر اطلاع دے دے تو اس کا نام رجسٹر سے کاٹ دیا جائے گا۔پھر میں نے یہ بھی بارہا کہا ہے کہ جو شخص نہ دے سکتا ہو ، وہ معافی لے لے تا نادہندگی کے گناہ سے بچ جائے۔مگر باوجود اس کے جو نہ تو معافی لیتا ہے اور نہ ادا کرتا ہے، وہ خواہ مخواہ گنہگار بنتا ہے۔دفتر تحریک جدید والے اب ہر ایک کے نام رجسٹری خطوط بھیج رہے ہیں گو میرے خطبہ کی تعمیل انہوں نے بہت دیر سے کی مگر اب یہ خطوط بھیجے جارہے ہیں تا ہر ایک پر حجت قائم ہو جائے اور بعد میں کوئی شخص یہ نہ کہہ سکے کہ مجھے اطلاع نہ تھی۔اب بھی ان لوگوں کے لئے موقعہ ہے کہ جو ادا نہ کر سکتے ہوں، وہ معافی لے لیں۔اس طرح ان کا نام رجسٹر سے کاٹ دیا جائے گا۔لیکن جو نہ معافی لے اور نہ ادا کرے تو اس کا یہ مطلب ہوگا کہ وہ خدا تعالیٰ اور سلسلہ سے کھیل اور تمسخر کرنا چاہتا ہے، وہ جھوٹی بڑائی کا خواہشمند ہے، اس کے اندر غرور اور تکبر پایا جاتا ہے اور وہ محض جھوٹی عزت کے لئے اپنانام لکھوا دیتا ہے۔ورنہ شروع دن سے ہی اس کا ارادہ ادا کرنے کا نہ تھا۔ان کے سوا بھی بعض ایسے لوگ ہیں جو ادائیگی میں سستی کرتے ہیں ، وہ خیال کر لیتے ہیں کہ آخری دن ادا کر دیں گے۔حالانکہ مومن کو چاہیے کہ پہلے ہی دن ادا کرے یا پھر ہر ماہ کرتا جائے۔کیا پتہ ہے کہ وہ آخری دن تک زندہ بھی رہے یا نہ رہے؟ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ میں اگست میں ادا کر دوں گا ، اسے کیا علم کہ وہ اگست تک زندہ بھی رہے گا یا نہیں؟ لیکن جس نے نومبر میں وعدہ لکھوایا اور پھر کچھ دسمبر میں ادا کیا، کچھ جنوری میں، کچھ فروری میں اور بعد میں فوت ہو گیا تو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں وہ ادا کرنے والوں میں شمار ہو گا، نادہندوں میں نہیں۔کیونکہ جب تک وہ زندہ رہا برابر ادا کرتا رہا۔لیکن جو شخص ایک بھی قسط ادا نہیں کرتا وہ اگر فوت ہو جائے تو اللہ تعالٰی ضرور دریافت کرے گا کہ تم نے ادائیگی کے لئے کیا تیاری کی تھی؟ پس دوست تحریک جدید کے چندوں کی ادائیگی میں عجلت سے کام لیں اور جو یک مشت ادا نہیں کر سکتے ، وہ آہستہ آہستہ ادا کرتے جائیں۔سارے ہی اگر آخری دن ادا کرنے پر رہیں تو ہم زمین کی قسط کہاں سے ادا کر سکتے ہیں؟ یہ قسط مئی میں ادا کرنی پڑتی ہے اور اگر دوست اپنے وعدے ادا نہ کریں تو یہ کہاں سے ادا ہو سکتی ہے؟ اگر وقت پر یہ قسط ادا نہ ہو تو دس روپیہ سینکڑہ جرمانہ ہو جاتا ہے۔جو گویا بر وقت 13