تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 546
خطبہ جمعہ فرمودہ 4 فروری 1938ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد اول به شمولیت بیوی بچوں کے ساٹھ ستر آدمیوں کا اس کی زمین سے گزارہ چلے گا اور تمام قوم کو فائدہ پہنچے گا لیکن اگر وہ سود وسو ایکڑ زمین کی بجائے اتنی رقم کا سونا خرید کر گھر میں رکھ لیتا ہے تو کسی ایک شخص کو بھی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔تو اپنے روپیہ کو ایسے استعمال میں نہ لانا جس کا دنیا کو فائدہ پہنچے اسلام سخت نا پسند کرتا ہے اور ایسے لوگوں کو ہی قیامت کے دن سزادینے کا خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں ذکر کیا ہے۔چونکہ زیورات کے ذریعہ بھی روپیہ بند ہو جاتا ہے اور قوم کے کام نہیں آتا اس لئے زیورات کی کثرت بھی ناپسندیدہ امر ہے۔ہاں عورت کی اس کمزوری کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ وہ زیور پسند کرتی ہے اور جس کا قرآن کریم نے بھی يُنَشَّوا فِي الْحِلْيَةِ میں ذکر فرمایا ہے۔اسے تھوڑا سا زیور پہننے کی اجازت ہے۔اسی طرح ریشم اللہ تعالیٰ نے مردوں کیلئے منع کیا ہے مگر عورتوں کے لئے اس کا پہننا جائز رکھا ہے۔اس طرح اسلام نے عورت کا یہ حق تسلیم کیا ہے کہ وہ کچھ زیور پہن کر اور کچھ ریشمی لباس میں ملبوس ہو کر زیب وزینت کر سکتی ہے۔اس لئے میں نے یہ اجازت دی ہے کہ شادی بیاہ کے موقعہ کچھ زیور بنوا لیا جائے لیکن اس کے بعد کسی نئے زیور کے بنوانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی سوائے خاص حالات اور اجازت کے۔ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ ٹوٹے پھوٹے زیور کی مرمت کر والی جائے کیونکہ زیورات ملک کی تجارت اور زراعت اور صنعت و حرفت کی ترقی میں سخت روک ہیں اور اس طرح ملک کا کروڑوں روپیہ بغیر کسی فائدہ کے بند پڑا رہتا ہے اور کسی قومی یاملکی فائدہ کیلئے استعمال نہیں ہو سکتا۔ایک عورت اگر اپنے پاس دس ہزار روپے کا زیور بھی رکھ لیتی ہے تو کسی اور کو اس سے کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے لیکن اگر وہ دس ہزار روپیہ تجارت میں لگا دیتی ہے اور پندرہ ہیں آدمی پرورش پا جاتے ہیں تو اس سے ملک اور قوم کو بہت بڑا فائدہ پہنچے گا اور اس صورت میں اس کو بھی نفع ملے گا لیکن یہ نفع دوسروں کو نفع میں شامل کر کے ملے گا اس لئے شریعت اس کی اجازت دے گی۔تو اسلام روپیہ کے استعمال کی وہ صورت پسند کرتا ہے جسے لوگ استعمال کریں وہ صورت پسند نہیں کرتا کہ جس میں آنکھیں اسے دیکھ دیکھ کر لذت حاصل کریں مگر لوگ اس کے فائدہ سے محروم رہیں۔پس زیورات کے بنوانے میں جس قدر احتیاط کی جاسکے وہ نہ صرف امارت و غربت کا امتیاز دور کرنے کے لئے ، نہ صرف مذہبی احکام کی تعمیل کرنے کیلئے بلکہ اپنے ملک کو ترقی دینے کیلئے بھی نہایت ضروری ہے۔پس یہ احکام ایسے نہیں جنہیں بدلنے کی ضرورت ہو بلکہ ہو سکتا ہے کہ کسی وقت ان میں زیادہ بختی کی ضرورت پیش آجائے اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اگر حکومت مسلمان ہو یا اسلامی احکام کے نفاذ کی اجازت اس کی طرف سے ہو تو ایسی کئی قیود لگانی پڑیں گی جن کے ماتحت افراد کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچ 546