تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 87
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول خطبہ جمعہ فرمودہ 7 دسمبر 1934ء دوسری نصیحت میں قادیان کے دوکانداروں کو یہ کرتا ہوں کہ انہیں سود استا خریدنے کی کوشش کرنی چاہئے۔میں نے خود کئی دفعہ مقابلہ کیا ہے اور مجھے معلوم ہوا کہ یہاں کے بعض دوکاندار اشیاء مہنگی خریدتے ہیں۔ایک دوست سے میں نے ایک دفعہ ایک چیز کا ریٹ دریافت کرایا تو اس نے بٹالہ یا امرت سر کا ریٹ سولہ روپیہ بتایا اور دوسرے نے کہا کہ نو یا دس روپیہ تک آ جائے گی اور اس نے اس سے بھی کم میں کہ جتنا بتایا تھالا کر بھی وہ چیز دے دی۔چیز بھی نسبتا اچھی تھی اور میرا ذاتی تجربہ ہے کہ اگر چیز احتیاط سے خریدی جائے تو اچھی اور سستی مل جاتی ہے۔میں جب ولایت جانے لگا تو میری ایک لڑکی جو اس وقت چھوٹی تھی رونے لگی میں نے اسے کہا کہ رو نہیں میں تمہارے واسطے اچھی سی گڑیا لاؤں گا۔یہ وعدہ آتے وقت مجھے یاد آیا اور میں نے اس کے لئے ایک گڑیا کوئی چار روپیہ میں خریدی بعض دوستوں نے اسے دیکھا اور کہا کہ بڑی عجیب چیز ہے کتنے میں آئی ہے؟ میں نے انہیں کہا کہ میں نے قریباً چار روپیہ میں خریدی ہے مگر بازار میں گیارہ بارہ سے کسی طرح کم میں نہ آئے گی۔ڈور کا سفر تھا اور دوسروں کے بھی پیچھے بچے تھے ایک دو کو خیال آیا کہ ہم بھی ایسی گڑیا لے چلیں وہ گئے اور واپس آکر کہنے لگے کہ یہ تو کہیں بھی سولہ شلنگ سے کم میں نہیں ملتی جو گیارہ روپے کے قریب بنتے ہیں۔تو میں نے تجزیہ کیا ہے کہ اگر مجھے خود سود ا خریدنے کا موقع ملے تو چیز سستی مل جاتی ہے۔ولایت کی ایک بڑی دوکان ہے جہاں سے بادشاہ اور ملکہ بھی سودا خریدتے ہیں میں نے وہاں سے ایک چیز خریدی۔اُن کا دستور ہے کہ چیز کی قیمت کم نہیں کرتے مگر میں نے کم کرا کے خریدی۔ایک انگریز نے مجھ سے پوچھا کہ آپ نے یہ چیز کہاں سے لی ہے میں نے اسے بتایا کہ فلاں دکان سے لی ہے اور قیمت کم کرا کے لی ہے وہ حیران ہوا اور کہنے لگا کہ وہاں تو قیمت کم کرنے کا کوئی نام لے تو وہ باہر نکال دیتے ہیں کہ تم ہماری ہتک کرتے ہو۔تو انسان اگر ہوشیاری سے سودا خریدے تو ستا خرید سکتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دفعہ ایک صحابی کو ایک دینار دیا کہ ایک بکرا خرید لاؤ۔وہ گیا اور واپس آکر بکرا بھی دے دیا اور دینار بھی۔آپ نے فرمایا دینار کیسا واپس کر رہے ہو ؟ اس نے کہا کہ میں شہر سے ذرا دور چلا گیا تھا اور وہاں سے ایک دینار میں دو بکرے خریدے کیونکہ وہاں سستے ملتے تھے رستہ میں ایک شخص نے دریافت کیا کہ بکرے کا کیا لو گے؟ میں نے کہا ایک دینار اور یہاں چونکہ ایک دینار ہی کو بکرا ملتا ہے اس نے ایک دینار دے کر بکرا خرید لیا اس لئے دینار بھی حاضر ہے اور بکرا بھی۔آپ نے اس کے لئے دعا کی کہ خدا تعالیٰ ہمیشہ اس کے سودے میں برکت دے اور صحابہ کا بیان ہے کہ وہ 87