تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 83 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 83

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد اول خطبہ جمعہ فرمودہ 7 دسمبر 1934ء کئے اور فرمایا کہ مجھے نہ آتا ہے دودھ ضرور ہضم ہو جائے گا مگر آخر آپ تھک کر رہ گئے۔میں تو زیادہ دودھ کی کچی لسی بھی نہیں پی سکتا اگر کبھی کسی بیماری کے علاج کے طور پر پینی پڑے تو اس طرح پیتا ہوں کہ دو تین پیچ دودھ کے اور ایک گلاس پانی اور اگر کبھی دودھ پی لوں تو فور اگلا خراب ہو جاتا ہے۔پس بیمار کے لئے شرط کوئی نہیں اور یہ تو میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ جو چیز طبیب بتائے اس کے استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں۔یہ بات جو کھانے کے متعلق میں نے بتائی ہے یہ صحت کی درستی کے لئے ہے نہ کہ خرابی کیلئے اور صحت کیلئے اگر ڈاکٹر پانچ کھانے بھی بتائے تو وہ کھانے ضروری ہیں۔یہ آگے ڈاکٹر اور اللہ تعالی کا معاملہ ہے کہ ڈاکٹر دیانت داری سے ایسا مشورہ دیتا ہے یا نہیں۔امریکہ میں جن دنوں شراب کی ممانعت کا قانون رائج تھا لوگ ڈاکٹروں کو بڑی بڑی فیسیں دے کر سرٹیفیکیٹ لے لیتے تھے کہ صحت کے لئے شراب پینا ضروری ہے اور پھر اس اجازت کی آڑ میں خوب شراب پیتے تھے۔پس اگر کوئی شخص ڈاکٹر کو ساتھ ملا کر ایسی اجازت حاصل کر لیتا ہے تو اس کا معاملہ اللہ تعالی کے ساتھ ہے اور ایسے لوگوں کا یہاں سوال نہیں یہاں تو اخلاص والوں سے خطاب ہے۔ہمارے ملک میں کہا جاتا ہے کہ تالے تو بھلے مانسوں کے لئے ہوتے ہیں نہ کہ چوروں کے لئے چور تو انہیں جھٹ تو ڑ لیتے ہیں۔اسی طرح ہمارے قوانین بھی مخلصین کے لئے ہیں جن کے اندر اخلاص نہیں ان کے لئے کوئی قانون نہیں۔ایسا شخص اگر باہر آکر ہمارے سامنے ایک کھانا کھائے اور اندر کوٹھڑی میں جا کر پانچ سات کھانے کھالے تو اسے کون روک سکتا ہے؟ پس بیمار کے لئے پابندی نہیں۔ہر شخص جسے ڈاکٹر کہتا ہے کہ اس کی صحت کی لئے ضروری ہے کہ وہ ایک سے زیادہ کھانے کھائے وہ زیادہ کھانے کھا سکتا ہے مگر یہ اپنا ہم نہ ہو بلکہ طبی خیال ہو اور بیمار کے لئے دہ سب چیزیں جائز ہیں جن کا طبیب حکم دے۔فقہا نے تو بعض حالتوں میں بیمار کے لئے شراب کی بھی اور بعض نجس اشیاء کے استعمال کی بھی اجازت دی ہے اور جب ایسی چیزوں کی ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق اجازت ہے تو جائز چیزوں کی کیسے ممانعت ہو سکتی ہے؟ باقی رہاد ہی کا سوال ، بعض لوگ قبض دور کرنے کے لئے دہی استعمال کرتے ہیں انہیں اجازت ہے لیکن کیوں نہ ایسا کر لیا جائے کہ بجائے سالن کے ساتھ علیحد ہ دہی کھانے کے اس کو بلو کر پی لیا جائے۔اس سے چسکا پورا کرنے کا سوال بھی پیدا نہ ہوگا اور عادت بھی پوری ہو جائے گی۔اگر سور ہضمی کا اندیشہ ہو تو پانی نہ ڈالا جائے اور صرف بلو کر اسے پی لیا جائے۔دہی روٹی کے ساتھ ہی کھانے سے فائدہ نہیں دیتا بلکہ اس طرح پی لینے سے بھی فائدہ ہوتا ہے۔83