تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 75
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول خطبہ جمعہ فرمودہ 30 نومبر 1934ء 66 کردے ایسے چالیس مومن جن کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ دنیا کو فتح کر سکتے ہیں۔پس وہ لولے لنگڑے اور اپاہج جو دوسروں کے کھلانے سے کھاتے ہیں، جو دوسروں کی امداد سے پیشاب پاخانہ کرتے ہیں اور وہ بیمار اور مریض جو چار پائیوں پر پڑے ہیں اور کہتے ہیں کہ کاش ہمیں بھی طاقت ہوتی اور ہمیں بھی صحت ہوتی تو ہم بھی اس وقت دین کی خدمت کرتے ان سے میں کہتا ہوں کہ ان کیلئے بھی خدا تعالیٰ نے دین کی خدمت کرنے کا موقع پیدا کر دیا ہے وہ اپنی دعاؤں کے ذریعہ خدا تعالیٰ کا دروازہ کھٹکھٹائیں اور چار پائیوں پر پڑے پڑے خدا تعالیٰ کا عرش ہلائیں تا کہ کامیابی اور فتح مندی آئے۔پھر وہ جو ان پڑھ ہیں اور نہ صرف ان پڑھ ہیں بلکہ گند ذہن ہیں اور اپنی اپنی جگہ کڑھ رہے ہیں کہ کاش ہم بھی عالم ہوتے ، کاش ہمارا بھی ذہن رسا ہوتا اور ہم بھی تبلیغ دین کے لئے نکلتے ! ان سے میں کہتا ہوں کہ ان کا بھی خدا ہے جو اعلیٰ درجہ کی عبارت آرائیوں کو نہیں دیکھتا، اعلیٰ تقریروں کو نہیں دیکھتا، بلکہ دل کو دیکھتا ہے وہ اپنے سیدھے سادے طریق سے دعا کریں خدا تعالیٰ ان کی دعا سنے گا اور ان کی مدد کرے گا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک مخلص صحابی بلال حبشی تھے جن کے نام سے تمام امت اسلامیہ واقف ہے وہ اذان دیا کرتے تھے۔چونکہ عرب نہ تھے اس لئے عربی کے بعض حروف ادا نہ کر سکتے تھے۔اَشْهَدُ کی بجائے اسهَدُ “ کہا کرتے تھے اور لوگ ان کی اذان پر پہنتے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ لوگوں کو ہنستے سنا تو باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ بلال کی آواز تو اللہ تعالیٰ کو بھی پیاری ہے اللہ تعالیٰ یہ نہیں دیکھتا تھا کہ وہ ”ش“ ادا نہیں کر سکتے بلکہ وہ یہ دیکھتا تھا کہ یہ میرا وہ بندہ ہے جسے سخت دھوپ میں گرم ریت میں لٹایا گیا مگر اس نے اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلہ کہنا نہ چھوڑا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس ایک دفعہ ایک عالم آیا، آپ نے بات کرتے وقت معمولی طور پر ق کا حرف ادا کرتے ہوئے قرآن کہا تو وہ کہنے لگا۔مسیح موعود بنے پھرتے ہیں اور قر آن کہنا بھی نہیں آتا، ان دنوں صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید بھی آئے ہوئے تھے ، ان کا ہاتھ اس شخص کے منہ کی طرف اٹھنے ہی لگا تھا کہ آپ نے انہیں روک دیا اور پھر جب تک اس شخص سے گفتگو کرتے رہے صاحبزادہ صاحب کا ایک ہاتھ آپ نے پکڑے رکھا اور دوسرا حضرت مولوی عبدالکریم کو پکڑے رکھنے کا ارشاد فرمایا اور وہ اس دوران میں غصہ سے لرزتے رہے لیکن وہ نادان کیا جانتا تھا کہ خدا تعالیٰ کو آپ کا سیدھا سادا قرآن کہنا ہی پسند تھا۔پس کوئی یہ مت سمجھے کہ اسے عبارت آرائی نہیں آتی کیونکہ خدا تعالیٰ الفاظ کو نہیں دیکھتا۔اگر اعلیٰ درجہ کے الفاظ میں اس سے التجا کی جائے تو اسے بھی سنتا ہے اور اگر ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں اس کے در اجابت کو کھٹکھٹایا جائے تو بھی کھولتا ہے اور پکارنے والے کی دعا سنتا ہے۔پس وہ لوگ جو معذوری اور مجبوری کی 75