تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 76
خطبہ جمعہ فرمودہ 30 نومبر 1934ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول صلى الله وجہ سے کسی مطالبہ کو پورا کرنے میں بھی حصہ نہیں لے سکتے میں نے یہ ایسی تجویز بتائی ہے کہ اس میں وہ سب شریک ہو سکتے ہیں اور یہ سب سے اعلیٰ سب سے اہم اور سب سے ضروری تجویز ہے۔وہ جو چار پائیوں پر پڑے ہوئے اپاہج ہیں ، وہ جنہیں بات کرنے کا شعور نہیں ، وہ جن کے ذہن رسا نہیں ، وہ جو بیمار اور کمزور ہیں ، وہ جو قید میں پڑے ہیں، وہ جو مصائب و تکالیف اور مشکلات میں گرفتار ہیں، وہ سب جو یہ کام کرنا چاہتے ہیں مگر کر نہیں سکتے وہ اس تجویز پر عمل کریں، اس طرح وہ کام کرنے والوں سے ثواب حاصل کرنے میں پیچھے نہ رہیں گے کیونکہ وہ خدا تعالیٰ سے کہہ سکتے ہیں ہمارے پاس دل ہی تھا وہ ہم نے پیش کر دیا اور خدا تعالیٰ ضرور ان کے دل کی قدر کرے گا اور انہیں ایسا ہی اجر دے گا جیسا کام کرنے والوں کو دے گا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ ایک جنگ کے لئے جارہے تھے آپ نے صحابہ کو دیکھا کہ بہت سخت تکلیفیں اٹھا رہے ہیں، بھوکے پیاسے ہیں، جنگل کاٹ کاٹ کر رستہ بنا رہے ہیں اور اس سخت تشویش اور تکلیف کو دین کی خاطر برداشت کر کے فخر محسوس کر رہے ہیں کہ ہم کو دین کی بہت بڑی خدمت کی توفیق ملی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اس حالت کو محسوس کر کے فرمایا کہ مدینہ میں کچھ لوگ ہیں جو تمہارے جیسا ثواب حاصل کر رہے ہیں۔صحابہ نے عرض کیا: یارسول اللہ ! یہ کس طرح ممکن ہے کہ قربانیاں تو ہم کریں، جانیں دینے کیلئے ہم نکلیں تکلیفیں ہم اُٹھا ئیں مصیبتیں ہم جھیلیں اور ثواب ان کو بھی ہمارے برابر ملے جو گھروں میں بیٹھے ہیں۔آپ نے فرمایا: ہاں وہ اپانچ اور وہ لولے لنگڑے جن کے دل بریاں ہیں اور جو رو رہے ہیں کہ ہمیں توفیق حاصل نہیں ورنہ ہم بھی اس جنگ میں شریک ہوتے۔کیا خدا تعالیٰ ان کو ثواب نہ دے گا؟ پس ایسے لوگ جو مجبور اور معذور ہیں، خدا تعالیٰ کے سامنے نہ کہ اپنے جھوٹے نفس کے سامنے ، ان کے پاس سب سے کاری حربہ ہے وہ اسے چلائیں اس طرح وہ خود بھی ثواب کے مستحق ہوں گے اور جماعت بھی ترقی کرتی جائے گی۔یہ وہ انیس تجاویز ہیں جو میں نے جماعت کے سامنے پیش کی ہیں۔امید ہے کہ جلد سے جلد ان کو عمل میں لایا جائے گا اور وہ جو دین کیلئے ہر قسم کی قربانی کرنے کے لئے تیار ہیں آگے بڑھیں گے۔روپیہ کے متعلق جو تحریک کی گئی ہے اور جو بھی قادیان میں ہی لوگوں کو پہنچی ہے اس میں اس وقت تک 6 سو روپیہ نقد اور 7-8 سو کے وعدے ہو چکے ہیں اور مجھے جو خبریں ملی ہیں ان کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ سکتا ہوں کہ اگر محلوں کی کمیٹیاں صحیح طور پر کوشش کریں تو قادیان سے ہی دو تین ہزار روپیہ جمع ہوسکتا ہے۔باہر کی جماعتوں کے متعلق مہینہ ڈیڑھ مہینہ تک اندازہ لگایا جا سکے گا۔میں نے جو سکیم تجویز کی ہے اس کا فورا پیش کرنے والا حصہ آج کے خطبہ سے مکمل ہو چکا ہے لیکن بعض زائد خیالات کا اظہار میں اگلے جمعہ کے خطبہ میں کروں گا۔جماعت کے لوگ ان مطالبات میں سے جس کا 76