تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 72
خطبہ جمعہ فرمودہ 30 نومبر 1934ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول میں نے اپنی جماعت کے لوگوں کو اپنے ہاتھ سے کام کرنے کے لئے کئی بار کہا ہے مگر توجہ نہیں کرتے کہ اپنے ہاتھ سے کام کرنے کی عادت ڈالیں اور یہ احساس مٹا دیں کہ فلاں آتا ہے اور فلاں مزدور۔اگر ہم اس لئے آقا بنتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے بنایا ہے تو یہ بھی ظاہر کرنا چاہئے کہ ہمارا حق نہیں کہ ہم آقا بنیں اور جب کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ اسے آقا بنے کا حق ہے تو وہ مومن نہیں رہتا۔کئی لوگ ترقی کرنے سے اس لئے محروم رہ جاتے ہیں کہ اگر ہم نے فلاں کام کیا اور نہ کر سکے تو لوگ کیا کہیں گے؟ بعض مبلغ خود چودھری بن کر بیٹھ جاتے ہیں اور دوسروں کو مباحثہ میں آگے کر دیتے ہیں تا کہ وہ ہار نہ جائیں۔مجھے یہ سن کر افسوس ہوا کہ ناظر صاحب دعوۃ و تبلیغ نے کہا ہمارے پاس اب صرف دو مبلغ مناظرے کرنے والے ہیں مگر اس کی ذمہ داری ناظر صاحب پر ہی عائد ہوتی ہے انہیں دو مبلغ ہوشیار نظر آئے انہی کو انہوں نے مناظروں کے لئے رکھ لیا حالانکہ انہیں چاہئے تھا کہ سب سے یہ کام لیتے اور اس طرح زیادہ مبلغ مباحثات کرنے والے پیدا ہو جاتے کیونکہ کام کرنے سے کام کی قابلیت پیدا ہوتی ہے۔بعض لوگ دراصل کام کرنے سے جی چراتے ہیں مگر ظاہر یہ کرتے ہیں کہ وہ اس کام کے کرنے میں اپنی ہتک سمجھتے ہیں۔میں ہاتھ سے کام کرنے کی عادت ڈالنے کا جو مطالبہ کر رہا ہوں اس کے لئے پہلے قادیان والوں کو لیتا ہوں یہاں کے احمدی محلوں میں جو اونچے نیچے گڑھے پائے جاتے ہیں، گلیاں صاف نہیں ، نالیاں گندی رہتی ہیں بلکہ بعض جگہ نالیاں موجود ہی نہیں ان کا انتظام کریں ، وہ جو او دور سیٹر ہیں وہ سروے کریں اور جہاں جہاں گندہ پانی جمع رہتا ہے اور جو ارد گرد بسنے والے دس ہیں کو بیمار کرنے کا موجب بنتا ہے اسے نکالنے کی کوشش کریں اور ایک ایک دن مقرر کر کے سب مل کر محلوں کو درست کر لیں۔اسی طرح جب کوئی سلسلہ کا کام ہو مثل لنگر خانہ یا مہمان خانہ کی کوئی اصلاح مطلوب ہو تو بجائے مزدور لگانے کے خود لگیں اور اپنے ہاتھ سے کام کر کے ثواب حاصل کریں۔ایک بزرگ کے متعلق لکھا ہے کہ وہ جب قرآن پڑھتے تو حروف پر انگلی بھی پھیرتے جاتے کسی نے اس کی وجہ پوچھی تو کہنے لگے قرآن کے حروف آنکھ سے دیکھتا ہوں اور زبان سے پڑھتا ہوں اور انگلی کو بھی ثواب میں شریک کرنے کے لئے پھیرتا جاتا ہوں۔پس جتنے عضو بھی ثواب کے کام میں شریک ہو سکیں اتنا ہی اچھا ہے اور اس کے علاوہ مشقت کی عادت ہوگی۔اب اگر کسی کو ہاتھ سے کام کرنے کے لئے کہو اور وہ کام کرنا شروع بھی کر دے تو کھسیانا ہوکر مسکراتا جائے گالیکن اگر سب کو اسی طرح کام کرنے کی عادت ہو تو پھر کوئی عار نہ سمجھے گا۔یہ تحریک میں قادیان سے پہلے شروع کرنا چاہتا ہوں اور باہر گاؤں کی احمد یہ جماعتوں کو ہدایت 72