تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 69 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 69

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول خطبه جمعه فرمودہ 30 نومبر 1934ء تربیت پر زور دینے کے لئے ہم جس رنگ میں ان کو رکھنا چاہیں رکھ سکیں اس کے ماتحت جو دوست اپنے لڑکے پیش کرنا چاہیں کریں۔ان کے متعلق میں ناظر صاحب تعلیم و تربیت سے کہوں گا کہ انہیں تہجد پڑھانے کا خاص انتظام کریں، قرآن کریم کے درس اور مذہبی تربیت کا پورا انتظام کیا جائے اور ان پر ایسا گہرا اثر ڈالا جائے کہ اگر ان کی ظاہری تعلیم کو نقصان بھی پہنچ جائے تو اس کی پرواہ نہ کی جائے۔میرا یہ مطلب نہیں کہ ان کی ظاہری تعلیم کو ضرور نقصان پہنچے اور نہ بظاہر اس کا امکان ہے لیکن دینی ضرورت پر زور دینے کی غرض سے میں کہتا ہوں کہ اگر ان کی دینی تعلیم و تربیت پر وقت خرچ کرنے کی وجہ سے نقصان پہنچ بھی جائے تو اس کی پرواہ نہ کی جائے اس طرح ان کیلئے ایک ایسا ماحول پیدا کیا جائے جو ان میں نئی زندگی کی روح پیدا کرنے والا ہو۔چودھواں مطالبہ یہ ہے بعض صاحب حیثیت لوگ ہیں جو اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلانا چاہتے ہیں ان سے میں کہوں گا کہ بجائے اس کے کہ بچوں کے منشا اور خواہش کے مطابق ان کے متعلق فیصلہ کریں یا خود یا اپنے دوستوں کے مشورہ سے فیصلہ کریں وہ اپنے لڑکوں کے مستقبل کو سلسلہ کے پیش کر دیں۔اس کیلئے ایک کمیٹی بنادی جائے گی اس کے سپر دایسے لڑکوں کے مستقبل کا فیصلہ کر دیا جائے گا وہ کمیٹی ہر ایک لڑکے کے متعلق جو فیصلہ کرے اس کی پابندی کی جائے۔اب یہ ہوتا ہے کہ اگر ایک لڑکا آئی سی ایس کی تیاری کرتا ہے تو سب اسی طرف چلے جاتے ہیں۔اگر وہ سارے کے سارے پاس بھی ہو جائیں تو اتنی جگہیں کہاں نکل سکتی ہیں جو سب کومل جائیں؟ لیکن اگر لڑکوں کو علیحدہ علیحدہ کاموں کے لئے منتخب کیا جائے اور ان کے لئے تیاری کرائی جائے تو پھر انہیں ملازمتیں حاصل کرنے میں بھی کامیابی ہوسکتی ہے اور سلسلہ کی ضرورتیں بھی پوری ہو سکتی ہیں۔موجودہ حالات میں جو احمدی اعلیٰ عہدوں کی تلاش کرتے ہیں وہ کسی نظام کے ماتحت نہیں کرتے اور نتیجہ یہ ہوا ہے کہ بعض صیغوں میں احمدی زیادہ ہو گئے ہیں اور بعض بالکل خالی ہیں۔پس میں چاہتا ہوں کہ اعلیٰ تعلیم ایک نظام کے ماتحت ہو اور اس کے لئے ایک ایسی کمیٹی مقرر کر دی جائے کہ جو لوگ اعلیٰ تعلیم دلانا چاہیں وہ لڑکوں کے نام اس کمیٹی کے سامنے پیش کر دیں پھر وہ کمیٹی لڑکوں کی حیثیت، اُن کی قابلیت اور اُن کے رُجحان کو دیکھ کر فیصلہ کرے کہ فلاں کو پولیس کے محکمہ کے لئے تیار کیا جائے ، فلاں کو انجینئر نگ کی تعلیم دلائی جائے، فلاں کو بجلی کے محکمہ میں کام سیکھنے کے لئے بھیجا جائے ، فلاں ڈاکٹری میں جائے، فلاں ریلوے میں جائے وغیرہ وغیرہ یعنی ان کیلئے الگ الگ کام مقرر کریں تا کہ کوئی صیغہ ایسا نہ رہے جس میں احمدیوں کا کافی دخل نہ ہو جائے۔اب صرف تین یا چار صیغوں 69