تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 728 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 728

اقتباس از تقریر فرمودہ 8 اپریل 1939ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول چالیس پچاس چیلے منگوا لئے اور انہوں نے حال وغیرہ دکھایا، مگر مجھے اس سے شدید نفرت ہوئی ، کیونکہ انہوں نے یہ تماشا کے طور پر دکھایا تھا۔پس کوئی حرکت خواہ وہ کتنی اچھی کیوں نہ ہو اگر اس کا مقصد تماشا دکھا نا ہوتو وہ نا جائز ہے۔مگرسینما تو مخرب اخلاق ہونے کی وجہ سے ہی ناجائز قرار دیا گیا ہے۔اگر کوئی شخص مثلاً ہمالیہ پہاڑ کے نظاروں کی فلم تیار کرے، وہاں کی برف، درخت، چشمے دکھائے جائیں۔اس کی چٹانوں، غاروں اور چوٹیوں کا نظارہ ہو تو چونکہ یہ چیز علمی ترقی کا موجب ہوں گی میں اس سے نہیں روکوں گا۔جس چیز کو ہم روکتے ہیں وہ اخلاق کو خراب کرنے والا حصہ ہے اور چونکہ آج کل کی فلموں میں یہ چیز عام ہے اس لئے ہم کسی فلم کے مخرب اخلاق ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ دیکھنے والوں پر نہیں چھوڑتے ، بلکہ اس بات کو مسلمہ قرار دیتے ہیں کہ سینما میں یہ خرابی موجود ہے اور سینما کا آج کل اس قدر رواج ہو گیا ہے کہ اسے زندگی کا جز دسمجھا جانے لگا ہے۔تحریک جدید کے بعد میری ہمشیرہ سے شملہ میں بعض غیر احمدی اور غیر مسلم معرزین کی مستورات نے ذکر کیا کہ یہ تحریک بہت مفید ہے بلکہ بعض نے اس کی کا پیاں منگوا کر تقسیم کیں۔ایک کھانا، سادہ کپڑے، ضرورت سے زیادہ کپڑے نہ بنوانا ان سب باتوں کو ان سب نے بہت پسند کیا، مگر سینما کی ممانعت کے متعلق کہا کہ یہ بہت مشکل ہے۔اسے نہیں چھوڑا جا سکتا۔تو یہ چیز ایسی گھر کر گئی ہے کہ آج کل کہا اسے چھوڑنا بہت مشکل معلوم ہوتا ہے لیکن اس کی خرابی میں کوئی شک نہیں۔احمدیوں میں بھی بعض ایسے ہیں جو اس ممانعت کو توڑتے ہیں مگر وہ بہت کم ہیں۔لاہور مین ایک شخص نے سینما دیکھا۔دوسرے نے اسے کہا کہ اس کی تو ممانعت ہے تو اس نے کہا کہ سات سال کے بعد تو اجازت ہو جائے گی ، اگر میں نے پہلے دیکھ لیا تو کیا ہوا۔لیکن اس کی دوبارہ اجازت کا خیال آپ لوگوں کو دل سے نکال دینا چاہئے ، کیونکہ اس میں روپیہ کے ضیاع کے علاوہ اخلاق کی بھی تباہی ہے۔پھر اسراف کے حصہ کا تو علاج ہو سکتا ہے مگر اس کے ذریعہ اخلاق کو جو نقصان پہنچتا ہے وہ ایسا ہے کہ اگر کسی کے پاس لاکھوں کروڑوں بلکہ اربوں کھربوں پی بھی ہو میں اس کی اجازت نہیں دے سکتا اور جب تک فلمیں مخرب اخلاق رہیں گی اس کی ممانعت قائم رہے گی۔اسی طرح جب کسی فونوگراف کے ریکارڈ مخرب اخلاق ہوں تو اس کی بھی ممانعت ہوگی لیکن اگر فلمیں تعلیمی ہوں تو اس کی ممانعت نہیں ہوتی۔اس طرح میں اس بات کے بھی خلاف ہوں کہ کوئی جلوس اس لئے نکالا جائے کہ کوئی اس کی فلم ہے۔یہ علیحدہ بات ہے کہ ہم جلوس نکال رہے ہوں اور کوئی تصویر لے لے۔اس میں کوئی ہرج نہیں۔تکلف اور تصنع سے کوئی کام کرنا درست نہیں اور میں اسے ناجائز سمجھتا ہوں بلکہ اپنے عزیز اور پیارے کی اس میں ذلت سمجھتا ہوں۔“ رپورٹ مجلس شوری منعقدہ 7 تا 9 اپریل 1939ء ) 728