تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 722
اقتباس از تقریر فرموده 7 اپریل 1939ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول ہیں اسی طرح وہ بھی بھاگ گیا ہے، مگر دراصل وہ میری اس تحریک پر ہی باہر گیا تھا مگر اس کا اس نے کسی سے ذکر تک نہ کیا۔چونکہ ہمارے ہاں عام طور پر صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید اور دوسرے شہداء کا ذکر ہوتا رہتا ہے اس لئے اسے یہی خیال آیا کہ میں بھی افغانستان جاؤں اور لوگوں کو تبلیغ کروں۔اسے یہ بھی علم نہیں تھا کہ غیر ملک میں جانے کے لئے پاسپورٹ کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ اسے پاسپورٹ مہیا کرنے کے ذرائع کا علم تھا۔وہ بغیر پاسپورٹ کے نکل کھڑا ہوا اور افغانستان کی طرف چل پڑا۔جب افغانستان میں داخل ہوا تو چونکہ وہ بغیر پاسپورٹ کے تھا اس لئے حکومت نے اسے گرفتار کر لیا اور پوچھا کہ پاسپورٹ کہاں ہے۔اس نے کہا کہ پاسپورٹ تو میرے پاس کوئی نہیں۔انہوں نے اسے قید کر دیا، مگر جیل خانہ میں بھی اس نے قیدیوں کو تبلیغ کرنی شروع کر دی۔کوئی مہینہ بھر ہی وہاں رہا ہوگا کہ افسروں نے رپورٹ کی کہ اب رہا کر دینا چاہئے ورنہ یہ قیدیوں کو احمدی بنالے گا۔چنانچہ انہوں نے اس کو ہندوستان کی سرحد پر لا کر چھوڑ دیا۔جب وہ واپس آیا تو اس نے مجھے اطلاع دی کہ میں آپ کی تحریک پر افغانستان گیا تھا۔اور وہاں میرے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا۔اب آپ بتائیں کہ میں کیا کروں۔میں نے اسے کہا کہ تم چین میں چلے جاؤ۔چنانچہ وہ چین گیا اور چلتے وقت اس نے ایک اور لڑکے کو بھی جس کا نام محمد رفیق ہے اور ضلع ہوشیار پور کا رہنے والا ہے تحریک کی کہ وہ ساتھ چلے۔چنانچہ وہ بھی ساتھ تیار ہو گیا۔اس کے چونکہ رشتہ دار موجود تھے اور بعض ذرائع بھی اسے میسر تھے اس لئے اس نے کوشش کی اور اسے پاسپورٹ مل گیا۔جس وقت یہ دونوں کشمیر پہنچے تو محمد رفیق تو آگے چلا گیا مگر عدالت خاں کو پاسپورٹ کی وجہ سے روک لیا گیا اور بعد میں گاؤں والوں کی مخالفت اور راہ داری کی تصدیق نہ ہو سکنے کی وجہ سے وہ کشمیر میں ہی رہ گیا اور وہاں اس انتظار میں بیٹھ رہا کہ اگر مجھے موقع ملے تو میں نظر بچا کر چین چلا جاؤں گا، مگر چونکہ سردیوں کا موسم تھا اور سامان اس کے پاس بہت کم تھا اس لئے کشمیر میں اسے ڈبل نمونیہ ہوگیا اور وہ دو دن بعد فوت ہو گیا۔ابھی کشمیر سے چند دوست آئے ہوئے تھے انہوں نے عدالت خاں کا ایک عجیب واقعہ سنایا جسے سن کر رشک پیدا ہوتا ہے کہ احمدیت کی صداقت کے متعلق اسے کتنا یقین اور وثوق تھا۔وہ ایک گاؤں میں بیمار ہوا تھا جہاں کوئی علاج میسر نہ تھا۔جب اس کی حالت بالکل خراب ہوگئی تو ان دوستوں نے سنایا کہ وہ ہمیں کہنے لگا کسی غیر احمدی کو تیار کرو جو احمدیت کی صداقت کے متعلق مجھ سے مباہلہ کر لے۔اگر کوئی ایسا غیر احمدی تمہیں مل گیا تو میں بچ جاؤں گا اور اسے تبلیغ بھی ہو جائے گی ورنہ میرے بیچنے کی اور کوئی صورت نہیں۔شدید بیماری کی حالت میں یہ یقین اور وثوق بہت ہی کم لوگوں کو میسر ہوتا ہے، کیونکہ نانوے 722