تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 61
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول خطبہ جمعہ فرمودہ 30 نومبر 1934ء چھٹیوں کو ہی معقول طریق پر تبلیغ میں صرف کریں تو تھوڑے عرصہ میں کایا پلٹ سکتی اور رنگ بدل سکتا ہے۔ہر عقلمند کو ضرورت اس بات کی ہوتی ہے کہ اپنی طاقت کو صحیح طور پر استعمال کرے اور جب ایسا ہو تو بہت سی چیزیں جو دوسری صورت میں وقت کو ضائع اور طاقت کو کم کرنے والی ہوتی ہیں طاقت کو بڑھا دیتی ہیں۔اب اگر ایک ہزار آدمی اس طرح تبلیغ کے لئے اپنی چھٹیاں دے تو قریباً سو مبلغ ایک وقت میں کام کرنے والے مہیا ہو سکتے ہیں اور اگر چار پانچ سال تک بھی یہ سلسلہ جاری رہے تو علاوہ مستقل مبلغوں اور ان لوگوں کے جو انفرادی طور پر تبلیغ کا کام کرتے ہیں کیا حالت پیدا کر سکتے ہیں؟ ان میں کھیتی باڑی کرنے والے لوگوں کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔دین کی تبلیغ کرنے کے لئے کسی مولوی فاضل یا انٹرنس پاس کی ضرورت نہیں یہ شرط تو میں نے ممالک غیر میں بھیجنے والوں کے متعلق لگائی تھی ورنہ بعض پرائمری پاس بھی بہت اچھی لیاقت رکھتے ہیں اور مڈل پاس بھی اور زمینداروں میں سے بھی ایف۔اے انٹرنس، مڈل اور پرائمری پاس مل سکتے ہیں اس طرح اگر چار ہزار آدمی بھی کام میں لگ جائیں تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ تین سو سے بھی زائد مبلغ ایک وقت میں کام کرنے والے نئے مل گئے۔اتنے مبلغ اگر پنجاب میں لگا دیئے جائیں جو دن رات تبلیغ کے سوا اور کوئی کام نہ کریں تو غور کر وکتنا عظیم الشان کام ہو سکتا ہے! اصل سوال قربانی کے جذبہ اور ارادہ کا ہوتا ہے اور سوائے روپیہ کے جس کام کا ارادہ کریں گے کہ یہ ہونا چاہئے وہ ہونے لگ جائے گا۔جس طرح خدا تعالیٰ کُن کہتا ہے تو ہو جاتا ہے اسی طرح خدا تعالیٰ کے بندوں کو بھی یہ خاصیت دی جاتی ہے اور ان کی بھی یہی حالت ہوئی ہے۔ہم جو مشن کہنے والے کی جماعت ہیں ہمارے لئے بھی یہی ہے کہ جس کام کو ہم کہیں ہو جا وہ ہو جاتا ہے۔خدا تعالیٰ نے اپنے کئی مخلص بندوں کو یہ رتبہ دیا ہے کہ وہ جب کسی کام کے متعلق کہتے ہیں ہو جا تو وہ ہو جاتا ہے۔کئی دفعہ میرے پاس خط آتے ہیں کہ فلاں مقصد میں کامیابی کے لئے دعا کریں۔میں جواب میں لکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ آپ کا مقصد پورا کرے مگر لکھا یہ جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ آپ کا مقصد پورا کرے گا۔پھر خبر آتی ہے کہ مقصد پورا ہو گیا۔کئی دفعہ کرے گا“ کے لفظ کو کاٹنے کو دل کرتا ہے لیکن تجربہ نے مجھے بتا دیا ہے کہ وہ خدا تعالی کی طرف سے ہوتا ہے اس لئے اب میں بہت کم ایسا کرتا ہوں۔غرض اپنے متعلق الا ماشاء اللہ خدا تعالیٰ کا یہی تصرف دیکھا ہے کہ اسی طرح ہو جاتا ہے۔الا ماشاء اللہ اس لئے کہتا ہوں کہ لفظی الہام بھی کئی دفعہ ٹل جاتا ہے تو قلبی الہام بھی بدلے ہوئے حالات میں بدل سکتا ہے۔پس اللہ تعالٰی کے مومن بندوں کو بھی یہ طاقت دی جاتی ہے کہ وہ جس بات کو کہیں کہ ہو جاوہ ہو جاتی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے 61