تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 710
اقتباس از خطبه جمعه فرموده یکم دسمبر 1939ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول چوٹیوں پر لہرانے والا جھنڈا، کم سے کم ہر ملک میں ایک دی جی تو ہو جو ہوا میں لہرا رہی ہو اور لوگوں کو یہ بتا رہی ہو کہ اسلام مرا نہیں بلکہ زندہ ہے مگر ہم نے تو ابھی یہ بھی نہیں کیا۔حالانکہ تحریک جدید کا پہلا مقصد یہ ہے کہ ہم دنیا کے ہر ملک میں کم از کم ایک آدمی ایسا کھڑا کر دیں جو اسلام کے جھنڈے کو اپنے ہاتھوں میں تھامے رکھے اور اس کے پھریرے کو ہوا میں لہرا تار ہے۔دنیا بھتی ہے کہ اس نے اسلام کو مٹا دیا ہے مگر ہر ملک میں ہمارا ایک ایک مناد لوگوں کو یہ آواز دے رہا ہو کہ ہم بے شک کمزور ہیں، ہم بے شک نا تواں اور حقیر ہیں ، بے شک ہماری طاقت ٹوٹ گئی، ہماری حکومت جاتی رہی مگر اسلام نے اپنا سر نیچا نہیں کیا بلکہ اسلام کا پھر میرا آج بھی ہوا میں اڑ رہا ہے مگر ابھی تو اس دن کے آنے میں بھی ہمیں دیر نظر آتی ہے اور اس کے لئے کئی قسم کی قربانیوں کی ضرورت ہے لیکن بہر حال جس دن ہم یہ کام لیں گے اس دن ہمارا دوسرا قدم یہ ہوگا کہ ان ممالک میں صرف اسلام کا پھر یرا ہی نہ لہرائے بلکہ ان ممالک کے باشندوں میں سے کچھ ایسے لوگ پیدا کریں جو اسلام کے جھنڈے کو سرنگوں نہ ہونے دیں بلکہ ہمیشہ اسے مضبوطی سے تھامے رکھیں۔جاپان میں ایک ہندوستانی اسلامی جھنڈے کونہ ہرا رہا ہو بلکہ چند جاپانی اسلامی جھنڈے کو اپنے ہاتھوں میں تھامے ہوئے ہوں، چین میں ایک ہندوستانی اسلامی جھنڈے کونہ ہرارہا ہو بلکہ چند چینی اسلامی جھنڈے کو اپنے ہاتھوں میں تھامے ہوئے ہوں اسی طرح انگلستان، امریکہ، فرانس، جرمن، سویڈن، ناروے، فن لینڈ ، ہنگری، سپین، پرتگال اور دیگر ممالک میں ہندوستانی اسلامی جھنڈا نہ لہرا رہے ہوں بلکہ خودان ممالک کے بعض باشندے اسلامی جھنڈا لے کر کھڑے ہوئے ہوں۔چاہے وہ تعداد میں کتنے ہی تھوڑے ہوں اور چاہے وہ کتنے ہی کمزور اور ناتواں ہوں۔یہ ہمارا دوسرا مقصد ہے جو تحریک جدید کے ماتحت ہمارے سامنے ہے۔غرض ہمارے سامنے بہت بڑا کام ہے۔فتح بہت دور ہے اور منزل بہت بعید ہے۔بزدل اس لمبی مسافت سے گھبراتا اور قربانیوں سے جی چراتا ہے مگر بہادر انسان جانتا ہے کہ میرا یہ کام نہیں میں دیکھوں کہ مجھے فتح حاصل ہوتی ہے یا نہیں بلکہ میرا یہ کام ہے کہ جب تک میری زبان چلتی رہے میں بولتا چلا جاؤں اور اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے دین کی اشاعت زمین پر کرتار ہوں“۔مطبوع الفضل 8 دسمبر 1939ء) 710