تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 705 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 705

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول " اقتباس از خطبه جمعه فرموده 24 نومبر 1939ء یا درکھو کہ یہ تحریک خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے خطبہ جمعہ فرمودہ 24 نومبر 1939ء۔میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت تک تحریک جدید کی اہمیت اور ضرورت کو میں اس حد تک واضح کر چکا ہوں کہ اب کسی لمبی تحریک کی ضرورت باقی نہیں اور وہ لوگ جن کے دلوں میں خدا تعالیٰ نے دین کی محبت پیدا کی ہے اور جو اپنی ذمہ واری کو سمجھتے ہیں اور جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی رحمت اور برکت کی تڑپ ہے انہیں اب کسی مزید تحریک کی ضرورت نہیں۔ان پر یہ امر اچھی طرح کھل چکا ہے کہ اس میں کیا فوائد مخفی ہیں اور اس کے ذریعہ کس طرح کوشش کی جارہی ہے کہ ایک ایسا مستقل فنڈ قائم کر دیا جائے جو ہماری تبلیغی ضرورتوں کو ہمیشہ کے لئے تو نہیں مگر موجودہ ضرورتوں کو ایک عرصہ تک پورا کرتا رہے۔یہ فنڈ اتنا قلیل ہوگا کہ آئندہ ضرورتوں کے عشر عشیر کے لئے بھی کافی نہیں ہو سکتا۔عیسائیوں کو دیکھو، وہ ایک غلط عقیدہ کی اشاعت کے لئے کئی کروڑ روپیہ سالانہ خرچ کر رہے ہیں لیکن اس تحریک کے ماتحت اگر کوئی فنڈ قائم بھی کیا جا سکے تو وہ اتنا محدود ہو گا کہ ہماری آئندہ کوششوں اور ضرورتوں پر حاوی نہیں ہوسکتا۔آج ہماری جماعت چند لاکھ ہے اور اس کی کوششیں بھی چند لاکھ روپیہ تک محدود ہیں مگر جب اس کی تعداد کروڑوں کی ہوگی تو رو پی بھی کروڑوں کی تعداد میں خرچ کرنا پڑے گا اور پھر جب یہ اربوں کی تعداد میں ہو جائے گی تو اس نسبت سے ضروریات کے لئے روپیہ بھی اربوں خرچ ہوگا۔ہماری جماعت کے قیام کی اصل غرض یہ ہے کہ یہ پہلے مسلمانوں کی تربیت کریں اور جو مسلمان نہیں کہلاتے ان میں اشاعت اسلام کریں اور اس کی راہ میں جو روکیں ہیں انہیں دور کریں اور نئے سرے سے اسلام کی ترقی کے سامان کریں اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے الہاماً بتایا ہے کہ اپنی کوششوں کو اس حد تک اور اس وقت تک جاری رکھیں کہ دنیا میں احمدیت ہی احمدیت نظر آئے اور باقی لوگ ادنی غلام کی طرح قلیل تعداد میں رہ جائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے الہاما بتایا ہے کہ احمد بیت بڑھتے بڑھتے تین سو سال میں ایسے مقام پر پہنچ جائے گی کہ دنیا میں اسے ہی غلبہ حاصل ہوگا اور جو لوگ اس سے باہر رہیں گے وہ ایسی 705