تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 699
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول خطبہ جمعہ فرمودہ 30 جون 1939ء تحریک کی جو ان کے خیال کے مطابق ملک کے لئے مفید ہوسکتی تھی اور میں نے جو تحریک کی وہ اسلام اور سلسلہ کے فائدہ کو مد نظر رکھ کر کی ہے۔اس لئے ہماری تجاویز میں فرق لازمی ہے۔میرے مد نظر اسلام کی شوکت اور سلسلہ کی ترقی ہے اور گاندھی جی کے نزدیک ہندوستان کی ترقی ہے۔دونوں کا علاج علیحدہ علیحدہ ہے۔میں نے ایک کھانا کھانے ، سادہ کپڑے پہنے اور ہاتھ سے محنت کرنے کی جو تحریک کی ہے یہ کوئی چھوٹی باتیں نہیں ہیں، یہ اپنے اندر اس قدر فوائد رکھتی ہیں کہ ہر ایک پر اگر مفصل تقریر کی جائے تو سینکڑوں گھنٹے کی جاسکتی ہے اور اگر جماعت ان کو مدنظر رکھے تو قریب ترین عرصہ میں حیرت انگیز انقلاب پیدا ہوسکتا ہے اور جماعت اس پر جتنا عمل کرتی ہے اس کے اثرات بھی مشاہدہ کر رہی ہے۔مجھے کئی رپورٹیں آتی رہتی ہیں کہ دوسرے لوگ بھی اسے اختیار کر رہے ہیں۔کئی غیر احمدی امرا کے گھرانوں کی عورتیں ان تحریکات کو اپنے ہاں رائج کر رہی ہیں اور اسے بہت پسند کرتی ہیں۔پچھلے دنوں چیف جسٹس صاحب یہاں تشریف لائے تو انہوں نے اس تحریک کا ذکر سن کر بہت پسند کیا اور کہا کہ آپ کو چاہئے تھا میرے لئے بھی ایک کھانا تیار کراتے۔میں نے کہا مجھے آپ کی عادات کا علم نہ تھا انہوں نے کہا کہ میں تو سادگی کو بہت پسند کرتا ہوں تو یہ تعلیم اتنی مفید ہے کہ غیروں کو بھی اس کے فوائد نظر آرہے ہیں اور ہندوؤں سکھوں ، عیسائیوں، ایشیائیوں اور غیر ایشیائیوں سب کی توجہ اس طرف خود بخو دمبذول ہوتی جارہی ہے مگر تجربہ سے یہ بھی ثابت ہو رہا ہے کہ لوگ زیادہ کھانے چھوڑنے کے لئے تیار ہیں، سادہ کپڑے بھی پہن سکتے ہیں مگر سینما چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔میری ہمشیر شملہ گئیں تو انہوں نے سنایا کہ بعض امرا کی عورتیں اس تحریک کو بہت پسند کرتی ہیں مگر صرف یہ کہتی ہیں کہ سینما چھوڑنا مشکل ہے۔تو عام طور پر لوگوں میں یہ تحریک شروع ہے۔حتی کہ مختلف کمیٹیوں اور مجلسوں میں یہ سوال آنا شروع ہو گیا ہے۔لیکن افسوس ہے کہ جماعت نے ابھی اسے سمجھنے اور اس پر پورے طور پر عمل کرنے کی طرف توجہ نہیں کی۔اصل کامل فرمانبرداری کامل علم سے پیدا ہوتی ہے اس لئے ان جلسوں میں واعظ اچھی طرح لوگوں کو اس کے فوائد سے آگاہ کریں اور کھول کھول کر سمجھا ئیں اور کوشش کریں کہ ہر سال کی تقریروں میں نئے نئے مضامین اور نئے نئے مسائل پیدا ہوں، میرا یہ مطلب نہیں کہ پچھلی باتیں بیان نہ کی جائیں اور ان کو نظر انداز کر دیا جائے ، ان باتوں کو چھوڑ نا خود کشی کے مترادف ہے ان کو بھی ضرور بیان کیا جائے اور ان کے علاوہ نئے مضامین پیدا کئے جائیں۔نئے مضامین سے نئی روح پیدا ہوتی ہے اس لئے دونوں کو مد نظر رکھنا چاہئے یعنی نئے مضامین بھی ہوں اور پرانے بھی بیان کئے جائیں۔699