تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 690 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 690

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 7 مارچ 1939ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول ہماری نظروں کو اس عظیم الشان مقصد کی طرف پھر ادے جس کے لئے اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھیجا۔پس پہلے میں صرف ان باتوں پر ایمان رکھتا تھا مگر اب میں صرف ایمان ہی نہیں رکھتا بلکہ میں تمام باتوں کو دیکھ رہا ہوں۔میں دیکھ رہا ہوں کہ سلسلہ کو کس کس رنگ میں نقصان پہنچایا جائے گا، میں دیکھ رہا ہوں کہ سلسلہ پر کیا کیا حملہ کیا جائے گا اور میں دیکھ رہا ہوں کہ ہماری طرف سے ان حملوں کا کیا کیا جواب دیا جائے گا۔ایک ایک چیز کا اجمالی علم میرے ذہن میں موجود ہے اور اس کا ایک حصہ خدام الاحمدیہ ہیں اور در حقیقت یہ روحانی ٹریننگ اور روحانی تربیت ہے اس فوج کی جس فوج نے احمدیت کے دشمنوں سے مقابلہ میں جنگ کرنی ہے، جس نے احمدیت کے جھنڈے کو فتح اور کامیابی کے ساتھ دشمن کے مقام پر گاڑنا ہے۔بے شک وہ لوگ جو ان باتوں سے واقف نہیں وہ میری ان باتوں کو نہیں سمجھ سکتے کیونکہ ہر شخص قبل از وقت ان باتوں کو سمجھ نہیں سکتا۔یہ اللہ تعالیٰ کی دین ہے جو وہ اپنے کسی بندے کو دیتا ہے۔میں خود بھی اس وقت تک ان باتوں کو نہیں سمجھا تھا جب تک اللہ تعالیٰ نے مجھ پر ان امور کا انکشاف نہ کیا۔پس تم ان باتوں کو نہیں سمجھ سکتے اور بے شک تم کہہ سکتے ہو کہ ہمیں تو کوئی بات نظر نہیں آتی لیکن مجھے تمام باتیں نظر آ رہی ہیں۔آج نو جوانوں کی ٹریننگ اور ان کی تربیت کا زمانہ ہے اور ٹرینگ کا زمانہ خاموشی کا زمانہ ہوتا ہے۔لوگ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ کچھ نہیں ہورہا مگر جب قوم تربیت پا کر عمل کے میدان میں نکل کھڑی ہوتی ہے تو دنیا انجام دیکھنے لگ جاتی ہے۔در حقیقت ایک ایسی زندہ قوم جو ایک ہاتھ اٹھنے پر اٹھے اور ایک ہاتھ گرنے پر بیٹھ جائے دنیا میں عظیم الشان تغیر پیدا کر دیا کرتی ہے اور یہ چیز ہماری جماعت میں ابھی پیدا نہیں ہوئی۔ہماری جماعت میں قربانیوں کا مادہ بہت کم ہے مگر ابھی یہ جذبہ ان کے اندر کمال کو نہیں پہنچا کہ جونہی ان کے کانوں میں خلیفہ وقت کی طرف سے کوئی آواز آئے اس وقت جماعت کو یہ محسوس نہ ہو کہ کوئی انسان بول رہا ہے بلکہ ان کو محسوس ہو کہ فرشتوں نے ان کو اٹھا لیا ہے اور صور اسرافیل ان کے سامنے پھونکا جارہا ہے۔جب آواز آئے کہ بیٹھو تو اس وقت انہیں یہ معلوم نہ ہو کہ کوئی انسان بول رہا ہے بلکہ یوں محسوس ہو کہ فرشتوں کا تصرف ان پر ہو رہا ہے اور وہ ایسی سواریاں ہیں جن پر فرشتے سوار ہیں۔جب وہ کہے کہ بیٹھ جاؤ تو سب بیٹھ جائیں، جب کہیں کہ کھڑے ہو جاؤ تو سب کھڑے ہو جائیں۔جس دن یہ روح ہماری جماعت میں پیدا ہو جائے گی اس دن جس طرح باز چڑیا پر حملہ کرتا ہے اور اسے توڑ مروڑ کر رکھ دیتا ہے، اسی طرح احمدیت اپنے شکار پر گرے گی اور تمام دنیا کے ممالک چڑیا کی طرح اس کے پنجہ میں آجائیں گے اور دنیا میں اسلام کا پر چھم پھر نئے سرے سے لہرانے لگ جائے گا“۔( مطبوعہ الفضل 7 اپریل 1939ء) 690