تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 58 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 58

خطبہ جمعہ فرمودہ 30 نومبر 1934ء تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول رونے پیٹنے لگ گیا۔ایسی حالت میں جو نبی اس نے کہا کہ میرا بھائی ایسا بہادر تھا، ایسا محسن تھا مگر آج اس کی بے قدری کی جارہی ہے اور کوئی اس کا انتقام لینے کے لئے تیار نہیں تو اہل عرب جو احسان کی قدر کرنے میں مشہور تھے انہوں نے تلواریں کھینچ لیں اور لڑائی شروع ہو گئی۔وہ اسلام کے لئے تو عظیم الشان فتح کا دن تھا مگر جنہوں نے لڑائی کرائی ان کے لئے کیسا دن تھا ؟ اس دن کفار کے تمام بڑے بڑے سردار مارے گئے اور جیسا کہ بائبل میں پیشگوئی تھی کہ تہامہ کی شوکت باطل ہو جائے گی۔ملکہ کی وادیوں میں رونے اور پیٹنے کے سوا کوئی شغل نہ رہا کیونکہ ہر خاندان میں سے کوئی نہ کوئی مارا گیا تو فوری طور پر لڑ دینا بالکل معمولی بات ہے اصل میں قربانی وہی ہوتی ہے جو لمبے عرصہ کے لئے ہو۔پس وہ لوگ جو اپنے آپ کو آٹھ کروڑ مسلمانان ہند کے نمائندے کہتے ہیں وہ بھی جماعت احمدیہ کی قربانی کے نمونہ کی قربانی پیش نہیں کر سکتے۔وہ نو جوان جنہوں نے اپنے آپ کو پیش کیا ہے ان کے متعلق آگے تجربہ سے پتہ چلے گا کہ کس قدرشاندار قربانیاں کرتے ہیں مگر ان میں سے بعض نے ایثار اور اخلاص کا جو اظہار کیا ہے وہ ویسا ہی معلوم ہوتا ہے جیسا کہ بدر کے موقع پر دو انصاری لڑکوں نے یہ کہہ کر دکھایا تھا کہ ابوجہل کہاں ہے؟ اور جبکہ عبدالرحمن ابھی اس حیرت میں تھے کہ انہوں نے کیا سوال کیا ہے اور وہ ابو جہل کی طرف انگلی سے اشارہ ہی کرنے پائے تھے کہ دونوں لڑکے کود کر اس پر جا پڑے اور اگر چہ وہ زخمی ہو گئے لیکن انہوں نے ابو جہل کو جا گرایا اور اس کی گردن پر تلوار چلا دی اس کے ارد گرد جو محافظ کھڑے تھے وہ دیکھتے کے دیکھتے ہی رہ گئے۔بعض نوجوانوں نے ایسے ہی جوش کا اظہار کیا ہے وہ دین کی خاطر ہر قسم کی قربانی کرنے اور ہر قسم کی تکلیف اٹھانے کے لئے تیار ہیں۔پھر یہ قربانی ایک دو دن کے لئے یا ایک دو ماہ کے لئے نہیں بلکہ مسلسل تین سال کیلئے ہے۔میں نے بتایا تھا کہ بعض نوجوانوں کو ہندوستان سے باہر بھیجا جائے گا اور بعض کو ہندوستان میں ہی دورہ کے لئے بھیجوں گا۔بعض اور کے ذریعہ سے میں تجربہ کرنا چاہتا ہوں جماعت کے اخلاص کا ، ان نوجوانوں کے اخلاص کا جو تو کل کر کے نکل کھڑے ہوں اور جو اتنی بھی فکر نہ کریں کہ کل کی روزی انہیں کہاں سے ملے گی؟ وہ خدا تعالیٰ پر بھروسہ کر کے چلے جائیں اور تبلیغ کرتے پھریں اُسی طرح جس طرح حضرت عیسی علیہ السلام کے وہ حواری نکلے تھے جنہیں کہا گیا تھا کہ اپنے پاس کچھ مت رکھو اور کل کی روٹی کی فکر نہ کرو۔پھر جہاں سے خدا تعالیٰ انہیں کھلائے کھا لیں اور جہاں سے پلائے پی لیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ہر گاؤں کے لوگوں کیلئے ضروری ہے کہ جو مہمان آئے تین دن تک اس کی مہمانی کریں۔پس اگر کسی گاؤں کے لوگ انہیں کھلا ئیں تو کھالیں اور اگر نہ کھلا ئیں تو سمجھیں کہ اس 58