تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 678 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 678

اقتباس از خطبه جمعه فرمود و 20 جنوری 1939ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول دوستوں نے اس خیال کے ساتھ اتفاق کا اظہار کر دیا۔پس یہ ایک ایسی تحریک ہے جس میں ہر شخص اپنا آپ امتحان لیتا ہے اور دیکھتا ہے کہ وہ کس قدر قربانی کا مادہ اپنے اندر رکھتا ہے۔غرض ہماری جماعت کے تمام دوستوں نے اپنے آپ کو انفرادی طور پر اس امتحان کے لئے پیش کر دیا۔انہوں نے کہا ہمارا امتحان نظام سلسلہ نے بھی لیا ، ہمارا امتحان خلیفہ نے بھی لیا، آؤ ہم آپ بھی اپنا امتحان لیں۔تب اللہ تعالیٰ نے عرش سے کہا ہم بھی اس امتحان میں اپنی طرف سے ایک سوال ڈال دیتے ہیں۔پس یہ کیسا عظیم الشان ابتلا ہے جو اس سال ہماری جماعت پر آیا ہے۔خدا نے بھی ہماری جماعت کا ایک امتحان لیا ہے، خلیفہ نے بھی جماعت کا ایک امتحان لیا ہے، نظام سلسلہ نے بھی جماعت کا ایک امتحان لیا ہے اور ہر فرد نے بھی انفرادی طور پر اپنا اپنا امتحان لیا ہے۔گویا چاروں گوشے جو تکمیل کے لئے ضروری ہیں، وہ اس امتحان میں پائے جاتے ہیں۔آخر انسان کے تعلقات کی کیا نوعیت ہے۔اس کے چار ہی قسم کے تعلقات ہوتے ہیں یا اس کا اپنے نفس کے ساتھ تعلق ہوتا ہے یا دوسرے انسانوں کے ساتھ تعلق ہوتا ہے یا روحانی یا جسمانی حاکم سے اس کا تعلق ہوتا ہے اور یا پھر خدا تعالیٰ سے تعلق ہوتا ہے۔اس سال یہ چاروں ہی ابتلا آ گئے۔جماعتی امتحان بھی جاری ہے، خلیفہ کا امتحان بھی جاری ہے، خود اپنے نفس کے امتحان کے لئے بھی جماعت کے ہر فرد نے اپنے آپ کو پیش کر دیا ہے۔صرف اللہ تعالیٰ کا ایک امتحان رہتا تھا۔سو یہ تینوں ابتلا دیکھ کر اللہ تعالیٰ نے کہا آؤ ہم بھی ان کے سامنے ایک امتحانی پرچہ رکھ دیتے ہیں۔پس اس نے بھی جماعت کا ایک امتحان لیا اور اس طرح ہمارے امتحان کے چار پرچے ہو گئے۔اب وہ شخص جو ان چاروں پر چوں میں پاس ہو جائے اس سے زیادہ خوش نصیب اور کون شخص ہو سکتا ہے؟ پس آج ہماری جماعت میں سے ہر شخص کے لئے ضروری ہے کہ وہ جماعتی امتحان میں بھی کامیاب ہو، خلیفہ کے امتحان میں بھی کامیاب ہو نفس کے محاسبہ کے امتحان میں بھی کامیاب ہواور خدا تعالیٰ کے امتحان میں بھی کامیاب ہو۔بے شک امتحان سخت ہے۔ایک نہیں چار امتحان ہیں لیکن پھر ان چاروں امتحانوں کے بعد کوئی قسم امتحان کی باقی نہیں رہ جاتی۔اٹھی امتحان بھی اس سال ہو رہا ہے، ملی امتحان بھی اس سال ہو رہا ہے، ذاتی امتحان بھی اس سال ہو رہا ہے اور خلیفہ وقت کی طرف سے بھی امتحان اس سال ہو رہا ہے۔بندوں کے ابتلاؤں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے ابتلا کا شامل ہو جانا ایک بہت بڑی برکت کا پیش خیمہ ہے کیونکہ بندوں کو دوسرے بندوں پر رحم آئے یا نہ آئے۔کیونکہ کسی انسان کو کیا پتہ کہ دوسرے کو 678