تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 671 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 671

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔۔جلد اول اقتباس از تقریر فرموده 16 اپریل 1938ء (۳) بجٹ میں زیادتی کی کوئی تجویز دوران سال میں پیش نہ ہو۔سوائے مندرجہ ذیل صورتوں کے: (الف) جو تجویز خلیفہ وقت کی طرف سے ہو۔(ب) انجمن کی طرف سے ہو اور ناظر بیت المال اس کی ذمہ داری لے۔میں نے تجویز کیا ہے کہ آئندہ تین مبلغوں کا باقاعدہ لینا بند کیا جائے۔اس بارہ میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا جامعہ کی آخری دو جماعتیں اڑادی جائیں۔اگر ایسا کیا گیا تو ایک تو جامعہ کا موجودہ عملہ بے کار ہو جائے گا، دوسرے بوقت ضرورت مشکلات پیش آئیں گی۔سو اس بارہ میں میری تجویز یہ ہے کہ عملہ کو بیکار نہ کیا جائے اور جماعتیں جاری رہیں۔صرف یہ کیا جائے کہ ان جماعتوں میں طب اور دوا سازی کا علم بڑھا دیا جائے مثلاً 2/3 وقت تحصیل طب میں طلبا خرچ کریں اور ۳/ ۱ دوسرے علوم کی تحصیل میں اور فارغ ہو کر مناسب جگہوں پر مطب کھول دیں۔چونکہ یہ طلبا عربی زبان میں اچھے ماہر ہوں گے تھوڑی محنت سے علم طب کے مبادی اور اصول سیکھ سکیں گے۔جس کی مدد سے وہ خود مطالعہ سے علم بڑھا سکیں گے۔اس وقت طبیبوں کی لیاقت کا جو معیار عام طور پر پایا جاتا ہے اس سے زیادہ لیاقت یہ پیدا کر سکتے ہیں۔بشرطیکہ ہوشیار ہوں۔خصوصاً جبکہ ہمارا اپنا ہسپتال ہے اور تشریح اور مرہم پٹی اور تھوڑی سی کمپونڈری بھی وہ وہاں سیکھ سکتے ہیں۔اس طریقہ سے ایک وسیع جال طبیبوں کا پھیلایا جا سکتا ہے۔یہ لوگ عربی مدارس قائم کر کے بھی مفید کام کر سکتے ہیں۔میری رائے میں یہ بہتر ہوگا کہ ان طلبا میں نے مستحق اور لائق طلباء کو تکمیل تعلیم کے بعد کچھ رقم کام کی ابتدائی مشکلات پر قابو پانے کے لئے دے دی جائیں۔بے شک اس صورت میں ہمیں ایک اچھا طبیب ملازم رکھنا ہوگا لیکن یہ خرچ زیادہ نہ ہوگا۔کیونکہ انجمن کے کئی عہدہ دار ریٹائر ہونے والے ہیں اور اس عملہ میں سے گنجائش نکالی جاسکتی ہے۔اس تجویز کے ماتحت اگر دیکھا جائے تو خرچ اور آمد کی صورت یہ ہوگی۔ایک طبیب فرض کرو ساٹھ روپیہ ماہوار کا، چالیس روپے دوائیوں وغیرہ کے لئے کل سو روپیہ ماہوار۔تین لڑکے جن کو وظیفہ دیا جائے (بشرطیکہ اس کے بغیر گزارہ نہ چلے ) تمہیں روپیہ ماہوار۔اس میں سے آخری خرچ اب بھی ہورہا ہے۔پس صرف سو روپیہ ماہوار خرچ بڑھے گا جو میں نے بتایا ہے انجمن کے موجودہ عملہ کی تبدیلیوں سے پورا ہو سکتا ہے اور اسی سال ہو سکتا ہے جب طالب علم پاس ہوں تو جیسا کہ میں نے اوپر ذکر کیا ہے ضرورت مند اور وقف کنندہ طلبا کو کچھ رقم جو میرے خیال میں سو روپیہ سے دوسو رو پیر تک مناسب ہوگی اور امداد یا قرض دے کر کسی خاص مقام پر جو تبلیغ اور طب دونوں کے لحاظ سے اچھا ہو بٹھا دیا جائے۔اگر اس امداد کی اوسط سورو پیہ فی طالب علم سمجھی جائے تو یہ تین سو روپیہ ہوا۔جب کبھی 671