تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 656
اقتباس از خطبه جمعه فرمود و 30 دسمبر 1938ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول نے جلسہ سالانہ کے موقعہ پر کیا تھا۔چندہ تحریک جدید میں آخر تک حصہ لینے والوں کی جولسٹ بنائی جائے گی وہ دو حصوں میں منقسم ہو گی۔ایک تو ان لوگوں کی فہرست ہوگی جنہوں نے اس تحریک میں قانون کے مطابق کمی کر کے باقاعدہ دس سال تک چندہ دیا ہوگا یا یکساں دیتے چلے گئے ہوں گے۔اپنے چندہ میں کمی کرنے والوں کی وجہ میری سمجھ میں آجاتی ہے مگر ہر سال یکساں چندہ دینے والوں کی وجہ میری سمجھ میں نہیں آتی۔مثلاً یہ تو سمجھ میں آسکتا ہے کہ ایک شخص جسے پانچ روپے چندہ دینے کی تو فیق بی تھی اس نے دوسرے دور کے دوسرے سال میں ساڑھے چار کر دیئے اور اس سے اگلے سال قانون کے مطابق اس کے ذمہ چار روپے رہ گئے۔پھر اس سے اگلے سال ساڑھے تین رہ گئے اور پھر تین تین روپے وہ تین سال متواتر دیتا رہا یا دوسرے دور کے پہلے سال اس نے دس روپے دیئے تو اگلے سال نو روپے رہ گئے پھر نو کے آٹھ رہ گئے پھر آٹھ کے سات رہ گئے ، سات کے چھو رہ گئے اور چھ چھ روپے وہ با قاعدہ تین سال تک دیتارہا لیکن میں یہ نہیں سمجھ سکتا کہ وہ شخص جو سابقون الاولون میں نہایت معمولی زیادتی کے ساتھ شامل ہو سکتا ہے وہ چندہ ہر سال برابر کیوں دیتا رہا؟ مثلاً وہ شخص جس نے پہلے سال پانچ روپے چندہ میں دیئے اور پھر ہر سال وہ پانچ روپے ہی دیتا رہا اس نے یقینا اس بات کو نہیں سمجھا کہ وہ بہت ہی معمولی قربانی کے ساتھ سابقون الا ولون میں شامل ہو سکتا تھا مگر اس نے اس طرف توجہ نہیں کی مثلاً وہ شخص جس نے پہلے سال پانچ روپے ہے دیئے جبکہ وہ دوسرے سال پانچ روپے ایک آنہ دے کر، تیسرے سال پانچ روپے دو آنہ دے کر ، چوتھے سال پانچ روپے تین آنے دے کر، پانچویں سال پانچ روپے چار آنے دے کر، چھٹے سال پانچ روپے پانچ آنے دے کر ، ساتویں سال پانچ روپے چھ آنے دے کر سابقون اور ہر سال قدم آگے بڑھانے والوں میں شامل ہوسکتا تھا۔تو میں نہیں سمجھ سکتا کہ کیوں وہ چند آنوں کی زیادتی میں بخل سے کام لے کر سابقون کے درجہ میں شامل نہ ہوا اور ہر سال پانچ روپے ہی دیتا چلا گیا۔جب ہر سال کے چندہ میں محض ایک آنہ کی زیادتی اسے سابقون الاولون میں شامل کر سکتی ہے تو یقینا اگر کوئی شخص یہ زیادتی نہیں کرے گا تو اس کے متعلق یہی سمجھا جائے گا کہ یا تو اس نے ناواقفیت اور عدم علم کی وجہ سے ایسا نہیں کیا اور یا پھر اس کے دل میں سابق ہونے کی ایسی قدر نہیں ہے۔تو قاعدہ کے مطابق جن دوستوں نے اپنے چندہ میں کمی کی ہے ان کی اس کمی کی حکمت تو میری سمجھ میں آسکتی ہے اور میں مان سکتا ہوں کہ مالی مشکلات کی وجہ سے وہ کمی کرنے پر مجبور ہوئے ہیں مگر وہ لوگ جو ہر سال برابر چندہ دیتے رہے ہیں ان کے اس یکساں چندہ دینے کی حکمت میری سمجھ میں نہیں آتی کیونکہ وہ بلا وجہ ایک عظیم الشان ثواب کے حصول سے محروم رہتے ہیں۔بے شک ایک شخص کہہ سکتا ہے کہ پچھلے سال میں نے پانچ روپے چندہ میں دیئے تھے، اس سال چھ روپے چندہ دینے 656