تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 652
اقتباس از خطبه جمعه فرمودہ 16 دسمبر 1938ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول رکھنے والے ہوں بلکہ کتابی حد تک کام کرنے والے بالعموم گاؤں والوں کے کیریکٹر کو بگاڑ دیتے ہیں۔گاؤں والوں کی ترقی اس شخص کے ذریعہ ہو سکتی ہے جو انہی میں سے ہو، ان کے ساتھ مل کر ہل چلائے ، ان کے ساتھ مل کر بڑھئی کا کام کرے اور ان کے ساتھ مل کر لو ہارے کا کام کرے اور پھر اس کے ساتھ ہی انہیں تعلیم بھی دیتا چلا جائے اور انہیں تبلیغ بھی کرتا چلا جائے۔جب تک گاؤں والوں کے سامنے اس رنگ میں کام نہ کیا جائے اس وقت تک نہ صرف ان کی ترقی نہیں ہو سکتی بلکہ ان میں پستی رونما ہونے کا امکان پیدا ہو جاتا ہے۔مثلاً مدرسہ لگا ہو اور استاد کے منہ میں حقہ کی نالی ہو اور وہ بیٹھا کہیں ہانکتا چلا جارہا ہو تو ایسے شخص کے نمونہ کو دیکھ کر لوگوں نے کیا ترقی کرنی ہے؟ وہ تو اس کے برے نمونہ کو دیکھ کر اپنی اچھی عادتوں کو بھی ترک کردیں گے لیکن اگر یہ ان کے ساتھ ہی ہل چلا رہا ہو اور ساتھ ہی یہ بتاتا جاتا ہو کہ تمہارے بیج میں یہ نقص ہے مگر میرے بیچ میں یہ خوبی ہے یا میر اہل اچھا ہے اور تمہارے بل میں وہ نقص ہے تو یہ مدرس پہلے مدرس سے زیادہ مفید اور زیادہ نفع بخش ثابت ہوگا۔پس میری اس تحریک پر جو لوگ اپنے آپ کو پیش کرنے والے ہوں وہ میں سے چالیس سال تک کی عمر کے ہوں ، ہاتھ سے کام کرنے والے ہوں اور محنت کیلئے تیار ہوں۔ہم ایسے لوگوں کو گزارہ بھی اسی صورت میں دیں گے یعنی ہم روپیہ کی صورت میں انہیں تنخواہ نہیں دیں گے بلکہ کام کی صورت میں دیں گے تاکہ وہ گاؤں والوں کے لئے نیک نمونہ بنیں اور ان کی ترقی اور اقبال مندی کا موجب ہوں۔اسی طرح ان کے ذریعہ گاؤں والوں کو اصلاح دیہات کے طریق بتائے جائیں گے۔کئی پیشے سکھائے جائیں گے اور کئی ترقی کی تدابیر بتائی جائیں گی۔غرض یہ گاؤں میں اس طرح رہیں گے جس طرح باپ اپنے بچوں میں رہتا ہے اور یہ اپنا بھی گزارہ کریں گے اور دوسروں کو بھی ایسے پیشے سکھائیں گے جن کے ذریعہ وہ روزی کما سکیں۔گویا یہ زمینداروں کے لڑکوں کو صرف کتابی تعلیم دے کر آرام طلب نہیں بنائیں گے بلکہ انہیں زیادہ محنتی ، زیادہ کمانے والا اور زیادہ ہوشیار بنا ئیں گے۔یہ سکیم اگر کامیاب ہوگئی تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارے قدم دیہات میں نہایت مضبوط ہو جائیں گے۔اب تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ گاؤں میں بعض احمدی ہوتے ہیں تو چونکہ وہ اسلام کی تعلیم سے ناواقف رہتے ہیں۔کچھ عرصہ کے بعد ان کے دلوں پر زنگ لگنا شروع ہو جاتا ہے اور پھر وہ احمدیت سے ارتداد اختیار کر لیتے ہیں۔بے شک جو مخلص ہوں وہ اپنے اخلاص میں ترقی کرتے رہتے ہیں مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ ایک حصہ ایسے کمزوروں کا بھی ہوتا ہے اور وہ بجائے ترقی کرنے کے تنزل میں گر جاتے ہیں۔ان کی مثال بالکل ایسی ہی ہوتی ہے جیسے درختوں پر جب آم کا بور لگتا ہے تو اس کا اکثر حصہ 652