تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 653
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول اقتباس از خطبه جمعه فرمودہ 16 دسمبر 1938ء آندھیوں اور بارشوں کی وجہ سے گر کر ضائع ہو جاتا ہے۔اسی طرح بہت سے آدمی احمدی ہوتے ہیں مگر پھر مناسب ماحول نہ ملنے کی وجہ سے گر جاتے ہیں کیونکہ وہ بور کی طرز پر ہوتے ہیں اور جس طرح بور کا ایک حصہ آندھیوں وغیرہ کی وجہ سے گر جاتا ہے اسی طرح وہ بھی پکنے نہیں پاتے اور گر جاتے ہیں مگر میں چاہتا ہوں کہ اس سکیم کے ذریعہ ایسا سامان ہو جائے کہ بور کا کوئی حصہ ضائع نہ ہو اور سب پکے ہوئے پھل کی شکل اختیار کرلے مگر یہ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ کوئی جگہ ایسی نہ رہے جہاں احمدیت کا مرکز نہ ہو بلکہ ہر جگہ ایسے تعلیم یافتہ لوگ موجود ہوں جو اپنی روزی بھی کمائیں اور ساتھ ساتھ لوگوں کو تعلیم بھی دیتے چلے جائیں۔اس غرض کیلئے پہلی جماعت چھ آدمیوں پر مشتمل ہوگی۔پس وہ دوست جو اس تحریک میں حصہ لیتا چاہتے ہوں انہیں چاہئے کہ وہ اپنی زندگی وقف کریں اور اپنے نام میرے سامنے پیش کریں اور یا درکھیں کہ منہ سے خدمت کرنے کا دعویٰ کرنا اور عملی رنگ میں کوئی کام کرنا ان دونوں باتوں میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔منہ سے دعوی کرنا آسان ہوتا ہے لیکن عمل کرنا مشکل ہوتا ہے اور درحقیقت عمل ہی ایک ایسی چیز ہے جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل نازل ہوتے ہیں۔میں امید کرتا ہوں کہ میں اس طرح ان لوگوں کی خواہشات کو بھی ایک حد تک پورا کر سکوں گا جو کہتے ہیں کہ مولوی فاضلوں اور گریجوایٹوں کیلئے تو خدمت دین کا موقع نکالا جاتا ہے مگر ہم جو کم تعلیم یافتہ ہیں ہمارے لئے کیوں کوئی راستہ نہیں نکالا جاتا ؟ اگر یہ سکیم کامیاب ہوگئی تو میں سمجھتا ہوں کہ تربیت کے لحاظ سے جماعت میں ایک تغیر پیدا ہو جائے گا۔باقی کام تو سب اللہ تعالیٰ نے کرنے ہیں۔ہم ہزاروں کام کرتے ہیں مگر اپنی سستی اور غفلت کی وجہ سے ان کے نیک نتائج حاصل نہیں کر سکتے۔پس یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی ہو سکتا ہے اور میں اس سے دعا کرتا ہوں کہ وہ مجھے اس سکیم کو مکمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے کہ ہر گاؤں میں ہمارا کوئی نہ کوئی مبلغ کام کر رہا ہو اور اس کے فضل ہم پر نازل ہوں اور اس سکیم میں ہماری دینی اور دنیوی دونوں قسم کی بہتری کے سامان پوشیدہ ہوں“۔مطبوعہ الفضل 24 دسمبر 1938 ء ) 653