تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 647 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 647

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول اقتباس از خطبه جمعه فرموده 2 دسمبر 1938ء طرح مجھے دنیوی لحاظ سے کون سی دولت حاصل ہے؟ مگر دنیا میں کون ہے جو مجھے ذلیل سمجھ سکے؟ کسی علم کا ماہر میرے سامنے آجائے خدا تعالیٰ کے فضل سے اسے شکست ہی کھانی پڑتی ہے۔تو عزت کے مختلف موجبات ہوا کرتے ہیں۔کبھی دولت عزت کا موجب ہوتی ہے اور کبھی علم عزت کا موجب ہوتا ہے اور کبھی عرفان عزت کا موجب ہوتا ہے۔دولت ہمارے پاس نہیں مگر علم روحانی خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمارے پاس بہت ہے۔اگر ہمارے پاس امرا آتے ہیں تو اس لئے نہیں کہ وہ ہم سے کسی جائیداد کے طالب ہوتے ہیں بلکہ اس لئے کہ روحانی فائدہ حاصل کریں، اگر نواب آتے ہیں تو وہ بھی اسی لئے اور یہ خزانہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارے پاس بہت ہے۔اسی طرح اگر کوئی عالم ہمارے پاس آئے گا تو اس لئے نہیں کہ ہم اس کا کوئی وظیفہ مقرر کر دیں بلکہ وہ کوئی علمی فائدہ ہم سے اٹھانا چاہے گا یا اپنے علمی خیالات کے متعلق ہم سے تبادلہ خیالات کرنا چاہے گا اور یہ ذخیرہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بہت دیا ہوا ہے۔اس کے مقابلہ میں ہم کسی کے دروازے پر جاتے ہی نہیں۔پس اس بات کا کوئی سوال ہی نہیں کہ وہ کیا سمجھے گا ؟ وہ جو جی میں آئے سمجھے مگر جو ہمارے پاس آئے گا وہ وہی چیز لینے آئے گا جو علمی رنگ میں ہمارے پاس ہے اور وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمارے پاس تھوڑی نہیں بلکہ بہت کافی ہے۔اسی لئے صوفیاء نے کہا ہے کہ سالکین کو امرا کے دروازوں پر نہیں جانا چاہئے۔چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ بِئْسَ الْفَقِيرُ عَلَى بَابِ الْأَمِيرِ۔وہ فقیر جو کسی امیر کے دروازے پر جاتا ہے وہ بہت ہی ذلیل ہوتا ہے۔اسے کس نے کہا تھا کہ وہ اپنا گھر چھوڑے اور دوسرے کے دروازے پر جا کر بھیک مانگے ؟ پس اگر یہ دوسرے کے دروازے پر جاتا نہیں اور اگر خود اس کے پاس دولت نہیں تو جو شخص اس کے پاس آئے گا روحانی علم سیکھنے ہی آئے گا اور جب وہ علم سیکھنے کے لئے آئے گا تو لازما عزت کرنے پر بھی مجبور ہوگا۔“ وو ی همت خیال کرو کہ دنیوی دولت کے نہ ہونے کی وجہ سے تم ذلیل ہو جاؤ گے۔ذلیل وہی ہوتا ہے جو آدھا خدا کا ہوتا ہے اور آدھا شیطان کا اور آدھا تیتر آدھا بٹیر خدا تعالیٰ کو پسند نہیں ہوتا۔یہ ادھر خدا تعالیٰ کی محبت کا دعویٰ کرتا ہے اور ادھر بندوں کے آگے اپنے ہاتھ پھیلاتا ہے کہ مجھ پر رحم کرو! مگر وہ جو دنیا کی محبت اپنے دل سے بالکل نکال دیتا ہے اور کہتا ہے اگر مجھے بادشاہت ملی تو میں بادشاہت لے لوں گا اور اگر فقیری ملی تو فقیری قبول کرلوں گا ، اگر تخت ملا تو تخت پر بیٹھ جاؤں گا اور اگر پھانس کا تختہ ملاتو اس پھانسی کے تختہ پر چڑھ جاؤں گا۔ایسے شخص کو کوئی نہیں جو ذلیل سمجھ سکے۔یہ خود کسی کے پاس اپنی کوئی غرض لے کر جائے گا نہیں اور جو اس کے پاس آئے گا وہ اس سے کوئی علمی فائدہ حاصل کرنے 647