تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 641 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 641

تحریک جدید - ایک ابھی تحریک۔۔۔۔جلد اول اقتباس از خطبہ جمعہ فرمود : 25 نومبر 1938ء آگ نہیں اور اب ہمسایوں کے ہاں آگ لینے کیا جاتا ہے ان کو خواہ مخواہ تکلیف ہوگی۔اس پر مہمان خود ہی کہہ دے گا کہ نہیں رہنے دور وشنی کی کیا ضرورت ہے؟ اور اس طرح دونوں مہمان کے ساتھ کھانے پر بیٹھ کر اندھیرے میں یونہی مچا کے مارتے جائیں گے اور مہمان کھانا کھا لے گا۔اس وقت تک پردہ کے احکام نازل نہیں ہوئے تھے۔چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا کہ بغیر کھانا کھانے کے ہی بڑے زور کے ساتھ مچا کے مارتے رہے۔مہمان بے چارہ بھی حیران ہوگا کہ کھانا تو اس قدر لذیذ نہیں ، معلوم نہیں کہ یہ اتنے مچا کے کیوں مارتے ہیں؟ بہر حال مہمان نے کھانا کھا لیا اور یہ سب بھوکے ہی رات سوئے رہے۔صبح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بلوایا اور پوچھارات تم نے مہمان کے ساتھ کیا کیا ؟ انہوں نے شرمندہ ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ جو کچھ کیا مجھے اللہ تعالیٰ نے بتا دیا ہے اور آپ ہنس پڑے اور فرمایا کہ تمہارے فعل پر خدا تعالیٰ بھی عرش پر ہنسا اور میں بھی اس لئے ہنسا ہوں کہ خدا تعالٰی ہنسا تھا۔تو یہ ذاتی قربانی کا سوال تھا جو انہوں نے کر دی۔اگر مالی قربانی کا سوال ہوتا تو وہ کیا کر سکتے تھے ؟ اگر تمام کام ذاتی قربانی کی طرز پر ہوں تو کام بہت وسیع ہو سکتا ہے اور دنیا میں فوراً امن قائم ہو سکتا ہے لیکن ابھی اس کا وقت نہیں آیا کہ سارے کام اس طرز پر چلائے جائیں۔اگر آج اس طرح چلایا جائے تو جماعت کے لئے یہ امر تباہی کا موجب ہوگا۔زمانہ کے حالات ایسے ہیں کہ بعض باتوں کو مجبورا ترک کرنا پڑتا ہے۔مثلاً اسلام کا حکم ہے کہ آگ کا عذاب نہ دیا جائے لیکن اگر آج اسے جاری کر دیا جائے تو مسلمان حکومتوں کا بندوقوں، توپوں سے کس طرح بچاؤ ہو سکے؟ ہاں جب ساری دنیا میں اسلامی حکومت اور غلبہ ہو تو اس وقت یہی حکم ہے۔اسی طرح اسلامی اصول یہ ہے کہ جہاں تک ہو سکے روپیہ کے استعمال کو کم کیا جائے لیکن اگر آج اس پر عمل کر دیا جائے تو اس کا لازمی نتیجہ تباہی ہوگا اس لئے ہمیں درمیانی راہ اختیار کرنی پڑتی ہے جس سے دشمن کے حملہ کو بھی بچایا جائے اور اسلامی روح کو بھی قائم رکھا جائے۔بعض نادان یہ اعتراض کر دیتے ہیں کہ اسلام کے فلاں حکم پر عمل کیوں نہیں کیا جاتا؟ حالانکہ حالات ایسے ہیں کہ اگر ان پر عمل کیا جائے تو اسلام کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سود لینے اور دینے والے دونوں پر لعنت کی ہے اور اسلام نے اس کو حرام قرار دیا ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ اگر کسی شخص کو ایک جگہ سود دینا پڑتا ہو اور دوسری جگہ اس کا روپیہ کسی ایسی جگہ پر لگا ہوا ہو جہاں سے اسے سو د مل سکتا ہو تو اسے چاہئے کہ لے لے اور جہاں دینا ہو وہاں دے دے۔اب بظاہر تو یہ دو لعنتوں کا جمع ہونا ہے لیکن کافر سے لے کر کافر کو ہی دے دینے سے مسلمان نقصان سے بچ جائے گا اور اسی 641