تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 642 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 642

اقتباس از خطبه جمعه فرمودہ 25 نومبر 1938ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول کو مذہبی سیاست کہتے ہیں۔نادان ہم پر اعتراض کرتے ہیں کہ یہ سیاسی آدمی بن رہے ہیں۔حالانکہ ہماری سیاست یہ نہیں کہ جرمنی یا اٹلی سے کوئی معاہدہ کرتے ہیں بلکہ اپنی ہی مذہبی سیاست ہے۔تو سادہ زندگی کا مطالبہ نہایت اہم ہے۔مذہبی سیاسی لحاظ سے بھی اور اقتصادی لحاظ سے بھی۔اس لئے میں دوستوں کو پھر توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اس کی اہمیت پر غور کریں امیر بھی اور غریب بھی اور آج میں نے پھر اچھی طرح اس بات کو واضح کر دیا ہے کہ دونوں کیلئے یہ مطالبہ یکساں طور پر ضروری ہے اور دونوں کے لئے مفید ہے۔اس کے بغیر نہ ہماری اقتصادی حالت درست ہو سکتی ہے اور نہ مذہبی جدو جہد وسیع ہوسکتی ہے۔اگر میں دیکھتا کہ جماعت نے پہلا قدم پوری طرح اٹھایا ہے تو دوسرا مضبوطی کے ساتھ اٹھاتا لیکن ابھی میں دیکھتا ہوں کہ بہت اصلاح کی ضرورت ہے اس لئے دوسرا قدم اٹھا نہیں سکتا۔کھانے کے معاملہ میں بے شک دوستوں نے اصلاح کی ہے مگر دوسرے معاملات میں نہیں بلکہ مجھے اس کا بھی اعتراف ہے کہ ابھی تک خود ہمارے گھروں میں بھی کھانے اور لباس کو چھوڑ کر باقی امور میں اس کی پوری طرح پابندی نہیں کی جاسکی اور جب تک پہلا قدم صحیح طور پر نہ اٹھا لیا جائے دوسرا نہیں اٹھایا جاسکتا۔اس لئے میں دوستوں کو پھر توجہ دلاتا ہوں کہ سادہ زندگی کے سب پہلوؤں پر عمل کرنے کی کوشش کریں تا ہماری اقتصادی حالت درست ہو سکے اور ہم اس قابل ہو سکیں کہ اپنے مالوں سے ہی خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر سکیں۔جماعت اگر اس کی اہمیت کو سمجھے تو چند سالوں میں ہی اہم دینی اور دنیوی تغیر پیدا ہوسکتا ہے۔میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ اس بارہ میں ہمیں صحیح راستہ پر چلنے کی توفیق دے۔جماعت میں بھی اور ہمارے گھروں میں بھی اس مطالبہ کی اہمیت پوری طرح سمجھ میں آجائے کیونکہ ہمارے گھروں کو نمونہ ہونا چاہئے۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ جتنا اس نے ہمیں موقعہ دیا ہے اس کے مطابق اسلامی ماحول پیدا کرسکیں تا خدا تعالیٰ کے حضور ہم یہ کہہ سکیں کہ جتنا تو نے اختیار دیا تھا اتنا ہم نے کر دیا اور باقی اس لئے نہ کر سکے کہ وہ ہمارے بس میں نہ تھا“۔مطبوع الفضل 2 دسمبر 1938ء) 642