تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 638 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 638

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 25 نومبر 1938ء تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول تھوڑا عرصہ پہن کر دوستوں کو دے دیتا ہوں مگر بعض دوست اور بھیج دیتے ہیں اور اس طرح یہ سلسلہ چلا جاتا ہے۔مجھے اور بھی ایسے لوگ معلوم ہیں جنہوں نے دو دو چار چار سال سے کپڑے نہیں بنوائے اور اس میں سراسر انہی کا فائدہ ہے۔اگر اس بچت سے وہ چندہ دیتے ہیں تو بھی ان کا فائدہ ہے اور اگر جمع کرتے ہیں تو بھی ان کا یا ان کی اولادوں کا۔تو یہ تحریک جدید کا بہت ضروری حصہ ہے جس کی طرف جماعت کو توجہ کرنی چاہئے۔لباس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر سادگی پسند فرماتے تھے کہ در حقیقت آج ان کے حالات پڑھ کر مجھے تو شرم آجاتی ہے۔گو آج کل حالات بدل گئے ہیں اور حالات کے ماتحت تبدیلیاں بھی کرنی پڑتی ہیں مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جو محبت ہے اس کی وجہ سے حالات کی تبدیلی کے باوجود شرم آنے لگتی ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ مجھے ایک چغہ پسند آیا جو کوئی شخص بیچنے کیلئے لایا تھا۔میں اسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! اسے خرید لیجیئے۔عید وغیرہ کے موقعہ پر پہننے کے کام آئے گا اور اچھا لگے گا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میری یہ بات سن کر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ پر سرخی آگئی گویا آپ نے اسے بہت نا پسند فرمایا اور فرمایا یہ تو قیصر وکسری والی باتیں ہیں۔عمر یہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے نہیں رکھیں۔شاید رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خیال آیا کہ عمر کو یہ چغہ پسند آیا ہے کیونکہ بعد میں جب کسی شخص نے ویسا چنغہ بطور ہدیہ آپ کو بھجوایا تو آپ نے وہ چغہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجوا دیا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! آپ کو یاد ہوگا میں نے ایک دفعہ آپ سے ایسے ہی چغہ کو خریدنے کو کہا تھا تو آپ نے سخت نا پسند فرمایا تھا مگر اب آپ نے اسی قسم کا چغہ میرے پاس بھیج دیا ہے۔آپ نے فرمایا کہ میں نے تمہارے پہننے کیلئے نہیں بھیجا اسے پھاڑ پھوڑ کر عورتوں کے کپڑے بنوالو۔تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کپڑوں میں جس قدر سادگی اختیار کرتے تھے اس میں سے تغیر زمانہ کی وجہ کو اگر منہا بھی کر دیا جائے تب بھی وہ بہت بڑی سادگی ہے۔یہ بھی صحیح ہے کہ اس زمانہ میں کپڑا کم ہوتا تھا اور اس لئے قیمتیں زیادہ تھیں اور اب بہت ستا ہے۔اس زمانہ میں جو کپڑا امرا پہنتے تھے وہ آج غریبوں کو بھی میسر ہے۔یہی گبرون اور لدھیانہ اس زمانہ میں بہت قیمتی اور امرا کے پہنے کا کپڑا سمجھا جاتا تھا مگر اب یہی غریبوں کا عام لباس ہے تو آج کپڑا بہت سستا ہو گیا ہے۔جو آج غربا کا لباس ہے وہ اس زمانہ میں امارت کی نشانی سمجھا جاتا تھا۔یہ سوسیاں وغیرہ بہت قیمت پاتی تھیں جن میں کوئی کوئی تار ریشم کا ہوتا تھا اور اسے معیار امارت سمجھا جاتا تھا۔تو یہ فرق بے شک دونوں زمانوں میں ہے لیکن اس فرق کو منہا کر کے بھی دیکھا جائے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم 638