تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 637 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 637

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول اقتباس از خطبه جمعه فرموده 25 نومبر 1938ء اور اس خواب کو پورا کرنے کے لئے میں یہ کپڑا بھیجتا ہوں۔میں نے وہ تھان لا کر گھر میں دیا کہ کسی نے بھیجا ہے اور اس سے تمھیں بنوائی جائیں۔انہوں نے ایسے لے کر کہا کہ الحمد للہ چار سال کے عرصہ میں آپ نے قمیضوں کیلئے کپڑا نہیں خریدا تھا اور آپ کی پہلی قمیصیں ہی سنبھال سنبھال کر اب تک کام چلایا جار ہا تھ یا ایک دو قمیضوں کے کپڑوں سے جو کوئی تحفہ کے طور پر دے جاتا تھا، اب یہ مشکل دور ہوئی۔تو خود میں نے کپڑوں میں بڑی احتیاط سے کام لیا ہے۔میں ضمناً یہ بات بھی کہنا چاہتا ہوں کہ اس دوست کے خط کو پڑھ کر معاً میرے دل میں خیال آیا کہ پچاس سال کی عمر ہونے کو آئی ہے۔جاگتے ہوئے تو میں نے کبھی کسی سے مانگا نہیں مگر خواب میں جامانگا اور گو یہ میں نے نہیں مانگا تھا بلکہ فرشتوں نے مانگا تھا لیکن یہ امر واقعہ ہے کہ پھر بھی مجھے شرم محسوس ہوئی اور میں نے اسی وقت دعا کی کہ اے خدا! جس طرح تو نے اپنے فضل سے جاگتے ہوئے مانگنے سے اب تک بچایا ہے۔خواب کے سوال سے بھی بچائے رکھ اور اگر خواب میں کسی کو تحریک کرنی ہو تو میرے منہ سے نہ کروا اور یہ خواب میں مانگنے کا بھی میری یاد کے مطابق پہلا ہی واقعہ ہے ورنہ خواب میں بھی میں نے کسی سے کبھی نہیں مانگا۔ایک دفعہ ایک دوست نے لکھا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تشریف لائے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اتنے روپیہ کی ضرورت تھی اس میں سے اتنا پورا ہو گیا ہے اور اتنا ابھی باقی ہے جو تم قرض دے دو، سو میرے پاس اس قدر رقم ہے۔اگر خواب ظاہری تعبیر کے مطابق درست ہے تو اطلاع ملنے پر روپیہ بھجوا دوں گا۔یہ خواب بالکل سچی تھی بعینہ حالات اسی طرح تھے مجھے اس وقت کچھ ضرورت تھی ، اس میں سے اسی قدر رقم کا جو خواب میں اس دوست کو بتائی گئی تھی ، انتظام ہو گیا تھا اور اس قدر رقم جو ان سے طلب کی گئی تھی مہیا ہوئی باقی تھی۔میں نے انہیں اطلاع دی اور انہوں نے وہ رقم بھجوا دی۔فجراهم الله احسن الجزاء۔دوست کا خط پڑھ کر جنہوں نے کپڑا بھجوایا تھا بے اختیار میرے منہ سے دعا نکلی کہ خدا وندا ! خواب میں بھی میں مانگنا پسند نہیں کرتا۔آئندہ اپنے فضل سے ایسا خواب بھی کسی کو نہ دکھا جس میں سوال میرے منہ سے ہو۔مجھے تو تو اپنے ہی ڈر کا سوالی بنا رہنے دے۔ہاں میں کہہ رہا تھا کہ کھانے کے متعلق پابندی دوستوں نے کی ہے مگر لباس کے متعلق ایک حصے نے کی ہے اور ایک نے نہیں کی۔میرے لئے تو اس پابندی کا سوال اکثر پیدا ہی نہیں ہو سکتا کیونکہ بعض دوست میرے لئے کوٹ وغیرہ لباس بنوا کر بھیج دیتے ہیں اس لئے میں خود تو وہ بنواتا ہی نہیں۔کرتہ یا پا جامہ عام طور پر بنواتا ہوں مگر وہ بھی گھر والوں نے بتایا ہے کہ چار سال سے نہیں بنے۔کوٹ بھی میں تھوڑا 637